منی بجٹ میں شادی تک پر ٹیکس لگادیا گیا، شادی سنت نبویؐ ہے اسے آسان بنانا آئین کا تقاضا ہے، شادی پر ٹیکس تو بھارت نے بھی نہیں لگایا، عبد الاکبر چترالی آبدیدہ ہوگئے

22

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی نے اپوزیشن کی پیش کر دہ ترامیم مسترد کرتے ہوئے ضمنی مالیاتی بل 2023 کثرت رائے سے منظور کر لیا جبکہ فاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ملک میں مہنگائی قابو سے باہر ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہاہے کہ کیا یہ سب چار ماہ میں ہوا؟ پچھلے دور حکومت میں پاکستان کی معیشت کا بیڑا غرق کیا گیا،

آئی ایم ایف سے معاہدہ کر کے توڑا گیا،ہم نے 10 دن آئی ایم سے مذاکرت کیے اورآئی ایم ایف کو 170 ارب کے ٹیکسز پر راضی کیا، ہمیں بھی ٹیکسز لگانے کا کوئی شوق نہیں تھا، 3000 ارب کی بجلی بناتے ہیں، صرف 1550 ارب روپے اکٹھا کر پاتے ہیں، پاور سیکٹر کو بجلی چوری، لائن لاسز جیسے مسائل کا سامنا ہے، حکومت ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس ہدف پورا کریگی،حکومت معاشی استحکام کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے، بی آئی ایس پی وظیفے میں 25 فیصد اضافہ کر رہے ہیں، اب بی آئی ایس پی کا بجٹ 360 ارب سے بڑھا کر 400 ارب روپے کر دیا گیا ہے،حکومتی اخراجات کم کرنیکا پلان وزیراعظم ایوان میں پیش کریں گے،یقین ہے بل پاس ہونے سے مالی مشکلات سے ملک کو نکالیں گے،ملک جلد ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت ہوا جس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ضمنی مالیاتی بجٹ 2023 پر بحث سمیٹتے ہوئے کہاکہ ارکان قومی اسمبلی نے ضمنی مالیاتی بجٹ پر اسمبلی میں بھرپور حصہ لیا جس پر ان کا مشور ہوں۔ انہوں نے کہاکہ اراکین پارلیمنٹ نے ضمنی مالیاتی بل پر تجاویز دیں،بل پر اراکین کے خیالات اور تجاویز سنیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس بجٹ میں نہیں تو آنے والے بجٹ میں تجاویز پر عمل کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکسز پر اراکین کی طرف سے تنقید کی گئی،ٹیکسز کبھی خوشی سے نہیں لگائے جاتے،اضافی ٹیکسز کی کم سے کم شرح رکھنے کی کوشش کی۔

وزیر خزانہ نے کہاکہ 3000 ارب کی بجلی بناتے ہیں تاہم صرف 1550 ارب روپے اکھٹا کر پاتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پاور سیکٹر کو بجلی چوری، لائن لاسز جیسے مسائل کا سامنا ہے، حکومت ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس ہدف پورا کریگی۔وزیر خزانہ نے اعتراف کیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں مہنگائی قابو سے باہر ہے تاہم کیا یہ سب چار ماہ میں ہوا؟

پچھلے دور حکومت میں پاکستان کی معیشت کا بیڑا غرق کیا گیا، آئی ایم ایف سے معاہدہ کر کے توڑا گیا۔وزیر خزانہ نے کہاکہ حکومت معاشی استحکام کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے، ہم نے 10 دن آئی ایم سے مذاکرت کیے، مذاکرات میں آئی ایم ایف کو 170 ارب کے ٹیکسز پر راضی کیا، گزشتہ حکومت نے معاشی نظم و ضبط توڑا۔انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تو آئی ایم ایف معاہدے سے پیچھے ہٹ گئے،

بی آئی ایس پی وظیفے میں 25 فیصد اضافہ کر رہے ہیں، اب بی آئی ایس پی کا بجٹ 360 ارب سے بڑھا کر 400 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔اسحاق ڈار نے کہاکہ حکومتی اخراجات کم کرنیکا پلان وزیراعظم ایوان میں پیش کریں گے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ حکومت نے شئیر پر ٹیکس بڑھانے کا فیصلہ کیاہے،سگریٹ پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز ہے۔اس حوالے سے ترمیم لارہے ہیں انہوں نے کہاکہ ضمنی مالیاتی بجٹ میں پاور سیکٹر کی وجہ سے 170 ارب کے ٹیکس لگانے پڑے،

یقین ہے بل پاس ہونے سے مالی مشکلات سے ملک کو نکالیں گے،ملک جلد ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔اجلاس کے دور ان جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس منی بجٹ میں شادی تک پر ٹیکس لگادیا گیا جبکہ شادی سنت نبویؐہے اسے آسان بنانا آئین کا تقاضا ہے، شادی پر ٹیکس تو بھارت نے بھی نہیں لگایا۔دوران تقریر عبدالاکبر چترالی آب دیدہ ہوگئے اور کہا کہ سچ یہ ہے کہ اسحق ڈار، اسپیکر اور ارکان سب مل کر غریب کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔

اجلاس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ضمنی مالیاتی پر ہونے والی بحث کے بعد ضمنی مالیاتی ترمیمی بل 2023 میں چند مزید ترامیم پیش کیں۔اسحاق ڈار نے بتایا کہ بیرون ملک بزنس کلاس میں فضائی سفر پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے، جنوبی امریکا جانے والے بزنس کلاس ٹکٹ پر ڈھائی لاکھ روپے ایکسائز ڈیوٹی فکس کر دی گئی ہے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ افریقا اور مشرق وسطٰی کے بزنس کلاس اور فرسٹ کلاس ٹکٹ پر ایکسائز ڈیوٹی 75 ہزار روپے فکس کی گئی ہے جبکہ یورپی ممالک کے فضائی ٹکٹ

پر ایکسائز ڈیوٹی ڈیڑھ لاکھ روپے فکس کر دی گئی ہے۔انہوں نے قومی اسمبلی اجلاس میں بتایا کہ مشرقی وسطٰی اور ایشیائی ممالک کے لیے بزنس اور فرسٹ کلاس پر ڈیوٹی ڈیڑھ لاکھ روپے فکس کی گئی ہے۔بعد ازاں ایوان نے اپوزیشن کی طرف سے پیش کر دہ ترامیم کثرت رائے سے مسترد کرتے ہوئے ضمنی مالیاتی بل 2023 کی کثرت رائے سے منظوری دیدی بل کی منظوری کے وقت اپوزیشن کے دو ارکان مولانا عبدالاکبر چترالی اور سائرہ بانو موجود تھے، اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔بعد ازاں اجلاس 22 فروری بدھ کی شام 4بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.