ثاقب نثار کہتا ہے عمران کو صادق و امین کا پورا سرٹیفکیٹ نہیں دیا ،کیا کوئی صداقت اور امانت کا آدھا سرٹیفکیٹ ہوتا ہے؟، مریم نواز

10

شیخوپورہ(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر و چیف آر گنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کہتا ہے عمران کو صادق و امین کا پورا سرٹیفکیٹ نہیں دیا تھا، کیا کوئی صداقت اور امانت کا آدھا سرٹیفکیٹ ہوتا ہے؟تمہارا وٹس ایپ نہیں تمہارے فیصلوں سے غریب کا مستقبل ہیک ہوگیا ،پتا ہے پول کھلنے والے ہیں ،جب سے مقدمات شروع ہوئے عمران خان گھر سے نہیں نکلا،

چھتوں کے پلستر اتر جاتے ہیں 5 ماہ سے اس کا پلستر نہیں اتر رہا، عمران خان پر کیسز سچے ہیں ،پیش ہو تو پھنستا ہے نہ ہو تو بھی پھنسے گا ،نوازشریف فخر سے کہہ سکتا ہے مریم نواز میری بیٹی ہے ، کیا عمران خان قوم کی آنکھ سے آنکھ ملا کر کہہ سکتا ہے ٹیریان وائٹ میری بیٹی ہے ؟، ضمانت پارک پولیس پہنچی تو چوہے کی طرح چار پائی کے نیچے چھپ گیا ،نوازشریف نے نہ ورکروں ، نہ عورتوں کو ڈھال بنایا ،شیر کی طرح بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر سینہ تان کر گرفتاری دی،عمران خان جانے والے آرمی چیف کا گریبان اور آنے والے چیف کے پائوں پکڑتا ہے ،جب جنرل باجوہ آرمی چیف تھے تو کہتا رہا تاحیات ایکسٹینشن دونگا جب ریٹائرڈ ہوئے کہتا ہے کورٹ مارشل کرو،بزدل کورٹ مارشل اس وقت کرتے جب تم وزیر اعظم تھے ، تحریک انصاف کی عدلیہ بچائو نہیں ،عدلیہ اور عدل سے عمران خان کو بچائو ریلی ہے۔ منگل کو یہاں مسلم لیگ (ن) کے تنظیمی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ آپ سب کو نواز شریف کا سلام، نواز شریف نے کہا تھا اپنا فیصلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑتا ہوں، کوئی رہ تو نہیں گیا جس نے نواز شریف کے خلاف سازش کی اور ذلت مقدر نہ بنی ہو، سازشیوں نے اعتراف کیا نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی، جو رہ گیا ہے منہ سے خود بولے گا، ہر کوئی سچ بولے گا نواز شریف کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ڈیم والا بابا پاکستان کیلئے بابا زحمت ثابت ہوا، ڈیم والے بابے نے کسی کی خواہش پر یا آئین کے مطابق انصاف کرنا تھا، بابا بولے گا کچھ لوگ کون تھے، یہ وہی کچھ لوگ تھے جو شوکت صدیقی کے گھر گئے تھے، ڈیم والا بابا قوم کو بتائے جنرل (ر) فیض حمید تھا،

ڈیم والا بابا ابھی بھی پورا سچ نہیں بول رہا ہے، قوم کو بتاؤ کس طرح نواز شریف کو تاحیات نااہل کیا؟۔مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر میدان سے اٹھا کر باہر پھینکا، میرے پاس کوئی عہدہ نہیں تھا ،مجھے 10سال کیلئے نااہل کیا گیا، ڈیم والے بابا نے چن چن کر (ن) لیگیوں کو نااہل کیا، کرسی پر بیٹھ کر فرعون بنا ہوا تھا، ثاقب نثار کہتا ہے مرنے کے بعد کتاب شائع کروں گا،

اس وقت موت یاد نہیں تھی جب بے گناہ شخص کو سزا دی، اس وقت موت یاد نہیں تھی جب تم نے تحریک انصاف کی کمپین چلائی۔مسلم لیگ (ن) کی رہنما نے کہا کہ جس نے سچ بولنا ہوتا ہے مرنے کا انتظار نہیں کرتا، مرنے کا انتظار وہ شخص کرتا ہے جو کالے کرتوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ مریم نواز نے کہاکہ لطیفہ سنو کہتا ہے میرا وٹس ایپ ہیک ہو گیا ہے، اب پتا ہے پول کھلنے والے ہیں،

بدنام زمانہ جے آئی ٹی جب بنی تھی تب وٹس ایپ ہیک نہیں ہوا، تمہارے فیصلوں سے غریب کا مستقبل ہیک ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ قوم کے بچوں کا مستقبل اندھیرے میں دھکیل کر اس کو اپنے بچوں کی فکر لاحق ہیں، قوم کے بچے رل گئے اور اس کا بیٹا لندن میں عیش کر رہا ہے، آپ سب کو مبارک ہو گزشتہ روز ثاقب نثار کہتا ہے عمران کو صادق و امین کا پورا سرٹیفکیٹ نہیں دیا تھا، کیا کوئی صداقت اور امانت کا آدھا سرٹیفکیٹ ہوتا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ ثاقب نثار نے 22 کروڑ عوام کی قسمت ایک بد کردار، بدعنوان، نالائق، نااہل شخص کے حوالے کی، نشئی کو لا کر بٹھا دیا اس سے زیادہ جرم کیا ہو سکتا ہے، یہ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ کا سب سے بڑا بزدل بھی ہے، میں اگر تحریک انصاف کی فالور ہوتی تو شرم سے مر جاتی، ایک بزدل شخص کو قوم پر مسلط کر دیا۔مسلم لیگ (ن) کی رہنما نے کہا کہ جب سے مقدمات شروع ہوئے

عمران کان گھر سے نہیں نکلا، چھتوں کے پلستر اتر جاتے ہیں 5 ماہ سے اس کا پلستر نہیں اتر رہا، آج عدالت میں اس کی پیشی تھی وکلا نے کہا کہ عمران معذور ہے عدالت نہیں آ سکتا، بہادری نہیں آتی تو نواز شریف سے ادھار لے لو، کینسر کے مریضوں، پلیٹ لیٹس، کمر درد کا مذاق اڑانے والا آج بیماری کا بہانہ کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر بیماری کا بہانہ کرنا تھا تو بزدل آدمی ایسی بیماری کا بہانہ لگاتے

جس کا ہم نام لے لیتے، کبھی کہتا ہے معذور، کبھی کہتا ہے عمر 72 سال ہے، کیا 72سال کے بزرگ کو جیل میں ڈالوگے ، اگر 72سال کا بزرگ چوری کرسکتا ہے تو جیل کیوں نہیں جاسکتا ۔انہوںنے کہاکہ نوازشریف اور عمران خان ایک ہی عمر کے ہیں ، عمر کا فرق نہیں ، کیا کبھی بہادر نوازشریف کو بیماری کے پیچھے چھپتے دیکھا ؟، کبھی نوازشریف کو پلاستر چڑھائے دیکھا ، کبھی کہا عدالت نہیں آسکتا میں معذور ہوں ۔

انہوںنے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ تمہیں شرم نہیں آئی جب 72سال کے نوازشریف کو جیل میں ڈالا ۔ انہوںنے کہاکہ جو انسان ایک جھوٹے مقدمے میں اپنی مرتی ہوئی بیوی کو لندن چھوڑ کر اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر جھوٹی سزا کا سامنا کر نے لندن سے پاکستان آ جائے اسے کیا کہتے ہیں ، جس پر کارکنوں نے جواب دیا شیر کہتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ جب پولیس عمران خا ن کے گھر میں جائے

تو شبلی فراز باہر آکر کہے گھر میں نہیں تو اسے کیا کہتے ہیں جس پر شرکاء نے جواب دیا گیدڑ کہتے ہیں ۔مریم نواز نے کہاکہ تم نوازشریف سے کیا مقابلہ کروگے ، تم مسلم لیگ (ن)کی ایک عورت سے مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ انہوںنے کہاکہ آپ کی بیٹی مریم پانچ ماہ ایک بار اور پانچ ماہ دو فعہ جیل کاٹ کر آئی ہے اور ایک دن نہیں روئی ہے ، اس نے کہا نوازشریف آپ کی بیٹی آپ کا سر نہیں جھکنے دے گی ۔

انہوںنے کہاکہ بات معذوری کی نہیں ، بات بیماری کی بھی نہیں ، بات یہ ہے کہ کانپیں ٹانگ رہی ہیں ،پلاستر زدہ ٹانگیں کانپ رہی ہیں کیونکہ کیسز جھوٹے نہیں کیسز سچے ہیں ، پیش ہوتا ہے تو پھنستا ہے اور اگر پیش نہیں ہوگا تو پھنسے گا ۔ انہوںنے کہاکہ اس کے کیسز بیٹے سے تنخواہ لینے والے نہیں ، اس کا کیس اقامہ رکھنے کا نہیں ، اس نے آف شور کمپنی چھپائی ، اس نے توشہ خانہ کے تحفے چھپائے ،

اپنے بیوی کی لی ہوئی رشوت والی انگوٹھیاںچھپائیں ، فارن فنڈنگ کے اکائونٹ چھپائے ، توشہ خانہ کو بیچ کر اربوں روپے بنائے اور چھپائے ،190ملین پائونڈاس کو عوام سے نہیں اپنی کابینہ سے بھی چھپایا ، اس نے اپنی بیٹی بھی قوم سے چھپائی ۔ انہوںنے کہاکہ کوئی اپنی بیٹی کے بارے میں جھوٹ بولتا ہے ، نوازشریف فخر سے کہہ سکتا ہے مریم نواز میری بیٹی ہے ، کیا یہ قوم کی آنکھ سے آنکھ ملا کر کہہ سکتا ہے

ٹیریان وائٹ میری بیٹی ہے ، جو شخص اپنی بیٹی کو تسلیم نہ کر سکے اس پر تھو ہے ۔ انہوںنے کہاکہ دوسروں کو کہتا رہا اگر چوری نہیں کی تو تلاشی دے دو ، نوازشریف نے چوری نہیں کی پھر بھی تلاشی دی ، اپنی بیٹی ، اپنے خاندان اور جماعت کی بھی تلاشی دی ، قوم پوچھتی ہے توشہ خانہ چور چوری نہیں کی تو تلاشی کیوں نہیں دیتے ہو ؟۔ مریم نواز نے کہاکہ قوم کو بھاشن دیتا ہے خوف کے بت توڑو ،

جب ضمانت پارک پولیس پہنچی تو چار پائی کے نیچے چھپ گئی ، جب تک پولیس وہاں رہی چار پائی کے نیچے سے نہیں نکلا ۔ انہوںنے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے عوام کو شیر کا جگر رکھنے والا نوازشریف جیسا لیڈر دیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ نوازشریف نے نہ ورکروں ، نہ عورتوں کو ڈھال بنایا بلکہ شیر کی طرح بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر سینہ تان کر گرفتاری دی، سلام نوازشریف سلام ،یہ ہوتا ہے لیڈر اور گیدڑ میں فرق ۔ انہوںنے کہاکہ گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کے پہلے جلسے میں نوازشریف نے تاریخی خطاب کیا تھا،

اس وقت سیم پیج پوری طاقت سے نوازشریف اور مسلم لیگ (ن)پر حملہ آور تھا ،اس وقت نوازشریف نے جنرل باجوہ کا نام لیا ، جنرل فیض کا نام لیا ،جانے کا انتظار نہیں اور پوری طاقت سے للکارا ۔ انہوںنے کہاکہ جب تک جنرل باجوہ وردی میں تھا تو گیدڑ کہتا رہا جنرل باجوہ جیسا کوئی دوسرا جرنیل پاکستان میں نہیں آیا ، کہتا رہا اس کو تاحیات ایکسٹینشن دونگا ، جیسے ہی جنرل باجوہ ریٹائرڈ ہوا تو کہتا ہے

کورٹ مارشل کرو ، بزدل آدمی کورٹ مارشل کرنا تھا تو اس وقت کرتے جب تم وزیراعظم تھے ، ابھی مگر مچھ کے آنسو کس کو دکھا رہے ہو۔انہوںنے کہاکہ عمران خان جانے والے آرمی چیف کا گریبان پکڑتا ہے اور آنے والے چیف کے پائوں پکڑتا ہے ۔ مریم نواز نے کہاکہ یہ چوہے کی طرح بل میں گھس کر بیٹھا تھا تومیں سوچتی ہوں اگر عمران خان کی حکومت میں ایٹمی دھماکے کر نے کا مرحلہ آجاتا اور بل کلنٹن کا فون آجاتا

تو یہ چار پائی کے نیچے چھپ کر کہتا جو کرنا کرو ۔ انہوںنے کہاکہ اب یہ عدلیہ بچائو ریلی نکال رہا ہے ،یہ اس وقت عدلیہ کیلئے ریلی نکال رہا ہے جب وہ بلاتی ہے تو کہتا ہے عمران خان گھر پر نہیں ہے ، یہ عدلیہ بچائو ریلی نہیں بلکہ عدلیہ اور عدل سے عمران کو بچائو ریلی ہے۔ انہوںنے کہاکہ انصاف ہوگیا انشاء اللہ ہوگا ، عمران خان کا پاکستان میں کوئی نام لیوا نہیں بچے گا ، عدلیہ بچائو ریلی اس وقت کہاں چلی گئی تھی

جب سپریم کورٹ کافیصلہ آیا تم نے آئین توڑا تو اس وقت کہتے تھے سپریم کورٹ نے بارہ بجے عدالت کیوں کھولی تھی ؟۔ انہوںنے کہاکہ جج زیبا کو آوازیں لگاتا تھا اس وقت عدلیہ کا خیال نہیں آیا ۔ انہوںنے کہاکہ جب پرویز الٰہی کھلے عام بینچ فکس کررہا تھا تو اس وقت عدلیہ بچانے کا خیال نہیں آتا ،

اس وقت عدلیہ بچانے کا خیال نہیں آتا جب یاسمین راشد کہتی ہے ہمارے بندے بیٹھے ہیں ، فواد چوہدری کہتاہے عدلیہ کے سامنے ٹرک کھڑا کر دیا ہے ۔ مریم نواز نے کہاکہ فتنہ خان کو میسج دیتے ہیں تم عدلیہ کی فکر چھوڑو عدلیہ کی فکر کر نے والے 22کروڑ عوام کافی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ گیدڑوں کا باپ کب تک خیر منائیگا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.