وفاقی سیکرٹری پیٹرولیم کے مؤقف نے غیر فعال ایم ڈی سوئی ناردرن کی تقرری ہی مشکوک بنا ڈالی، علی جے ہمدانی مایوس، وکلاء سر پکڑ کر بیٹھ گئے

19

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ میں غیر فعال ایم ڈی سوئی ناردرن کی جانب سے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران اُس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب سیکرٹری پیٹرولیم نے عدالت میں جمع کروائے گئے بیان میں علی جے ہمدانی کی بطور

ایم ڈی سوئی ناردرن تقرری ہی کو مشکوک بنا ڈالا۔ تفصیلات کے مطابق علی جے ہمدانی نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر مقدمے میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ساتھ ساتھ وفاقی سیکرٹری پیٹرولیم کو بھی فریق بنایا تھا۔ علی جے ہمدانی کا مؤقف تھا کہ اُن کی تقرری حکومت کی جانب سے کی گئی تھی لہذا صرف وفاقی حکومت ہی اُنہیں برطرف کرسکتی تھی اور بورڈ کو ایسا کوئی اختیار حاصل نہیں تھا۔ ہمدانی کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ اس فیصلے سے متعلق وفاقی حکومت کی منظوری بھی نہیں لی گئی لہذا ان غلط احکامات کو مسترد کردیا جائے۔سیکرٹری پیٹرولیم کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں بتایا گیا کہ علی جے ہمدانی کو کنٹریکٹ بنیادوں پر ایم ڈی مقرر کیا گیا تھا جس کی وجہ سے اُن پر “ماسٹر اور سرونٹ” کے اصول کا اطلاق ہوتا ہے چنانچہ انہیں صرف وہی حقوق حاصل ہیں جو اُن کے تقرری کے کاغذات میں درج ہیں۔ اس بنیاد پر سیکرٹری پیٹرولیم نے دائر آئینی درخواست کو ہی خارج کرنے کی درخواست کردی۔ سیکرٹری پیٹرولیم کے جواب میں مزید کہا گیا کہ ایم ڈی کی تقرری کے لیے تمام کارروائی بورڈ کی جانب سے کی گئی جس کے بعد تین میں سے ایک نام منظوری کے لیے حکومت کو بھیج دیے گے۔ حکومت نے بورڈ کے بھیجے گئے ناموں میں سے علی جے ہمدانی کا نام منظور کرلیا جس کے بعد بورڈ نے اُن کی تقرری کو نوٹیفائی کردیا۔ چنانچہ پبلک سیکٹر کمپنیز کے قانون کے مطابق یہ تقرری وفاقی حکومت نے نہیں بلکہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے کی ہے۔ اس تقرری کو حکومت کی جانب سے

تقرری صرف اُس وقت کہا جاسکتا تھا جب حکومت بذاتِ خود علی جے ہمدانی کو ایم ڈی سوئی ناردرن نامزد کرتی۔جواب میں مزید کہا گیا کہ ہمدانی کو بورڈ کے فیصلے کے حوالے سے کوئی شکایت بھی تھی تو وہ نقصان کے ازالے کے لیے کیس کرسکتے تھے تاہم اگر کوئی ماسٹر سرونٹ کو مزید رکھنے میں دلچسپی نہ لیتا ہو تواُسے ماسٹر پر زبردستی نہیں تھونپا جاسکتا۔ جواب میں کہا گیا کہ

سوئی ناردرن کے ادارے کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ذریعے چلایا جاتا ہے جو مدعی کی کرپشن پر نظر رکھنے، اُس کی تحقیقات کرنے اور کمپنی کے مفاد میں مناسب ایکشن لینے کا پوری طرح مجاز ہے۔ سیکرٹری پیٹرولیم کے جواب میں کہا گیا کہ علی جے ہمدانی کو برطرف نہیں کیا گیا بلکہ اُن سے جنرل پاور آف اٹارنی واپس لی گئی ہے جس کا بورڈ کو مکمل اختیار حاصل ہے اور اس حوالے سے کسی بھی شکایت پر

علی جے ہمدانی صرف کمپنی کی سطح پر ہی شکایت درج کرواسکتے ہیں۔سیکرٹری پیٹرولیم کے دبنگ جواب کے بعد علی جے ہمدانی کا کمپنی میں مستقبل مخدوش نظر آرہا ہے کیونکہ اس جواب کو سُننے کے بعد اُن کے وکلاء بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ علی جے ہمدانی اپنے وکلاء سے سخت ناراض ہیں۔ اُن کے قریبی حلقوں نے ہمیں بتایا کہ علی جے ہمدانی اپنے مقدمے کے حوالے سے بھی سخت مایوسی کا شکار نظر آتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.