جسٹس قاضی فائز عیسیٰ والے بینچ کے دو ایک کے فیصلے کا احترام سب پر لازم ہے،لیکن چیف جسٹس کے 3 رکنی بینچ کے فیصلے پر اعتماد نہیں ؟ لگتا ہے کہ انہوں نے پوری قوم کو نواز شریف سمجھ رکھا ہے ،عالیہ حمزہ کا حکومتی اتحاد کو جواب

23

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)تحریک انصاف کی خاتون رہنما اور سابق ایم این اے عالیہ حمزہ ملک نے سپریم کورٹ سے متعلق حکومتی اتحاد کے اعلامیہ پر ردعمل دیا ہے۔نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق عالیہ حمزہ نے سوال اٹھایا ہے کہ معزز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ والے بینچ کے

دو ایک کے فیصلے کا احترام سب پر لازم ہے لیکن معزز چیف جسٹس بندیال کے تین رکنی بینچ کے فیصلے پر اعتماد نہیں ہے؟ یہ دونوں جملے پی ڈی ایم کے ایک ہی اعلامیے کا حصہ ہیں۔ یہ ہے منافقت کی اعلیٰ مثال۔خیال رہے کہ حکومت میں شامل اتحاد ی جماعتوں نے فل کورٹ نہ بنانے کی صورت میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے بائیکاٹ کا مشورہ دیدیا ۔ حکومت میں شامل اتحادیوں کے اجلاس میں قائدین اور مرکزی رہنمائوںنے شرکت کی ۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ سے انصاف کی کوئی توقع نہیں ، یہی بنچ ماضی قریب میں ہماری حکومت کے خلاف کئی فیصلے دے چکاہے، فل کورٹ تمام جماعتوں کا مشترکہ اور متفقہ مطالبہ ہے، فل کورٹ کا مطالبہ نہ تسلیم کئے جانا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے شرکا ء کو وفاقی وزیر قانون نے بائیکاٹ کے فیصلے کے مضمرات سے بھی آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے یکطرفہ فیصلہ آنے کی صورت میں تمام اتحادی جماعتوں کا مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر اتفاق رائے کیاگیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک نواز شریف نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو تین رکنی بنچ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے ۔دریں اثناوزیر داخلہ رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ اس فیصلے کو نافذ کروانے کی کوشش کر رہا ہے جو ہوا ہی نہیں، وہ درخواست تو 7 رکنی بینچ نے چار تین سے خارج کر دی تھی۔

ایک انٹرویومیں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ تین ججوں نے پنجاب اسمبلی کے کچھ ارکان کے ووٹ نہ گننے کا فیصلہ کیا تو اسے آئین کو پھر سے لکھنے کے مترادف قرار دیا۔پی ٹی آئی سے مذاکرات کے سوال پر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی بات کرنے کیلئے بالکل تیار نہیں،

اگر عمران خان ہمارے ساتھ بیٹھنے پر تیار بھی ہوگئے تو کسی بات پر متفق نہیں ہوں گے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر وہ سنجیدہ ہیں تو فون اٹھائیں اور وزیراعظم کو فون کر کے مذاکرات کا کہیں، جب انہوں نے 126 دن کا دھرنا دیا اور مغلظات بکیں اس کے بعد بھی نواز شریف نے انہیں فون کر کے مذاکرات کی دعوت دی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.