دنیا کے سب سے وزنی بچے نے حیران کن طور پراپنا وزن کم کر لیا

28

جکارتہ (این این آئی)دنیا کے سب سے وزنی بچے نے جہاں اپنے موٹاپے کے باعث سب کی توجہ حاصل کی تھی، وہیں اب اس بچے نے وزن کم کر کے صارفین کو حیران کر دیا ہے، کیونکہ اب یہ بچہ پہچان میں نہیں آ رہا ہے۔انڈونیشیاء سے تعلق رکھنے والے 13 سالہ آریا پرمانا نے اپنے موٹاپے کے باعث دنیا بھر کی توجہ خوب سمیٹ لی تھی۔جہاں آریا کا وزن 10 سال کی عمر میں 180 کلو گرام تک پہنچ گیا تھا، وہیں آریا کا وزن عمر کے مقابلے میں اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ اب اسے روزہ مرہ زندگی میں بھی شدید مشکل کا سامنا تھا۔آریا نہ بیٹھ سکتا تھا نہ ہی چل سکتا تھا، جبکہ اس سب میں بیت الخلاء ، باتھ روم سمیت دیگر کام بھی وہ نہیں کر پا رہا تھا۔

آریا کی روٹین کے مطابق ماضی میں وہ دن میں 5 وقت کھانا کھاتا تھا، جو کہ 2 بندوں کے کھانے کے برار ہوتا تھا۔جبکہ آریا کی ڈائیٹ میں چاول، مچھلی، گوشت، سبزیوں کا سوپ شامل ہوتا تھا۔آریا کے والدین کے مطابق بچے کا وزن 2014 سے آؤٹ آف کنٹرول ہونا شروع ہوا تھا۔جب وہ 8 سال کا ہوا تھا۔جبکہ 2 سال کے عرصے میں ہی آریا نے 70 کلو گرام وزن بڑھا لیا تھا اور وہ دنیا کا سب سے موٹا بچہ کہلانے لگا تھا۔ اس سب میں آریا کی تعلیم بھی شدید متاثر ہو رہی تھی۔انڈونیشیاء میں آریا کے گھر پر ایک اسپیشل پول بنایا گیا تھا جہاں آریا کو نہلایا جاتا تھا، تاہم اس سب صورتحال میں آریا کو سانس کا مسئلہ بھی شدید ہونے لگا، جس کے باعث اسے اپنے موٹاپے کو کم کرنے کے لیے جستجو کرنے کا موقع ملا۔آریا نے اپنے وزن کو کم کرنے اور ڈائیٹ پلان کے حوالے سے سیلبرٹی ٹرینر اور باڈی بلڈر آدے رائے کی خدمات حاصل کیں، جنہوں نے آریا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

ٹرینر کے مطابق میں نے آریا کو محض سپورٹ کیا ہے، اسے اسپورٹس پسند ہے، جب وہ موٹا تھا تو اسے ساکر پسند تھا۔ آریا اب ایک امید کی مثال بن چکا ہے، اب لوگ کہتے ہیں کہ جب آریا وزن کم کر سکتا ہے تو میں کیوں نہیں۔دی سن کی رپورٹ کے مطابق 13 سالہ آریا اب 87 کلو گرام کے ہیں، آدھے سے زیادہ وزن گھٹا چکے ہیں، جبکہ وہ موٹاپے کے خاتمے کے بعد چونکہ ان کی اسکن لٹک چکی ہے، تو زائد المیعاد اسکن کو ختم کرنے کے لیے وہ سرجری کرائیںگے۔تاہم سخت ایکسرسائز اور ڈائیٹ کے باعث اب آریا مکمل طور پر تبدیل اور الگ دکھائی دے رہے ہیں، ان کے چہرے پر موجود موٹاپا بھی ختم ہو چکا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.