پاکستان کی عدالتی تاریخ میں انوکھا واقعہ،عدالت نے ریپ سے متعلق کیس میں چیٹ جی پی ٹی سے مدد لی

11

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کی عدالتی تاریخ میں انوکھا واقعہ پیش آیا، پنجاب کی مقامی عدالت کے جج نے کم عمر ملزم کو ریپ کی کوشش کے الزام میں ضمانت قبل از گرفتاری دینے کیلئے مصنوعی ذہانت کی مدد لی۔پنجاب کے وسطی ضلع منڈی بہا الدین کے علاقے پھالیہ کے جج نے کم عمر ملزم کو ریپ کی کوشش کے الزام میں ضمانت قبل از گرفتاری دینے کیلئے

مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر چیٹ جی پی ٹی فور سے مدد لی، اور اسے اپنے فیصلے کا حصہ بھی بنایا ہے۔ریپ کی کوشش سے متعلق کیس کا فیصلہ مارچ 29 2023 کو پھالیہ کے ایڈیشنل سیشن جج محمد عامر منیر کی عدالت سے جاری کیا گیا تھا۔جج محمد عامر نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ان کے سامنے ایک 13 سال کے کم عمر لڑکے کی ضمانت کا کیس آیا، بچے پر نو سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کی کوشش کا الزا ہے۔ فریقین کو تفصیل کے ساتھ سننے کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ اس بچے کو ضمانت قبل از گرفتاری دی جائے کیونکہ اس مقدمے میں کئی قانونی نقائص ہیں۔جج نے فیصلے میں مزید کہا کہ عدالت نے مقدمے کی جانچ کے بعد مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر چیٹ جی پی ٹی فور سے معاونت لینے کا فیصلہ اس لئے کیا کہ آیا مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی قانونی معاملات میں مدد کر سکتی ہے یا نہیں، کیونکہ کئی ملکوں میں قانونی مشاورت کیلئے روبوٹس سے مدد لی جارہی ہے۔عدالت نے 19 صفحات پر مشتمل فیصلے کے ابتدائی حصے میں کیس کے حقائق بیان کئے ہیں، جن کے مطابق ملزم اور مدعی دونوں کی عمریں انتہائی کم ہیں،

کیس کی ایف آئی آر 2 روز کی تاخیر سے درج ہوئی، دونوں خاندانوں کے درمیان پہلے بھی چپلقش کا ریکارڈ موجود ہے اور مقدمے کے روز ایک اور ایف آئی آر بھی درج ہوئی جس میں ملزم خاندان مدعی ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جب ملزم بچہ اپنی والدہ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوا تو وہ سہما ہوا تھا اور کم عمری اس کے چہرے سے عیاں تھی، یہ وجوہات ہی کافی ہیں کہ اس معاملے کی مزید چھان بین کی جائے۔

فیصلے کے مطابق ریپ کی کوشش کا الزام انتہائی سنگین ہے لیکن مقدمے کے جعلی ہونے کے شبہے کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا جبکہ بچے کی والدہ ہر طرح کی ضمانت دینے کو تیار ہے۔سیشن عدالت پھالیہ کے جج محمد عامر منیر نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا ہے کہ اس موقع پر میں نے چیٹ جی پی ٹی سے مدد لینے کا سوچا تاہم یہ تجرباتی طور پر کیا گیا

کیونکہ عدالت معروضی حقائق پر بچے کو ضمانت دینے کا فیصلہ کرچکی تھی۔جج نے چیٹ جی پی ٹی فور اوپن اے آئی سے پہلا سوال کیا کہ پاکستان میں ایک کم عمر ملزم بچہ جس کی عمر 13 برس ہو اس کو ضمانت بعد از گرفتاری دی جا سکتی ہے؟، جس پر چیٹ جی پی ٹی فور نے جواب دیا کہ پاکستان میں اس وقت جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 نافذ العمل ہے

جس کے سیکشن 12 کے مطابق مشروط طور پر عدالت ضمانت لے سکتی ہے، تاہم اس کا حتمی فیصلہ کہ عدالت ہی کرے گی۔مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر سے پوچھا گیا کہ اس بات کو تعزیرات پاکستان کے سیکشن 83 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو پھر صورتحال کیا ہوگی؟۔ جس پر چیٹ جی پی ٹی کا جواب تھا کہ اس سیکشن کے مطابق 7 سال تک کی عمر والے بچے کے ہاتھوں ہونیوالا جرم شمار ہی نہیں ہوگا

اور 12 سال کی عمر تک یہ تصور ہوگا کہ بچہ جرم کرنے کے قابل نہیں، البتہ اس شق کا اطلاق عدالت کی صوابدید ہوگا۔یہاں جج نے چیٹ جی پی ٹی فور کو بتایا کہ تعزیرات پاکستان قانون میں ترمیم ہوچکی ہے اور 14 سال تک عمر کے بچے کے جرم کرنے کی اہلیت کا تعین عدالت کی جانچ پر منحصر ہے۔

اے آئی نے تصحیح کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ صحیح کہہ رہے ہیں 2016 میں ایک ترمیم کے ذریعے عمر کی حد بڑھا دی گئی تھی۔ایڈیشنل سیشن جج عامر منیر نے چیٹ جی پی ٹی سے کل 18 سوالات کئے، جہاں دو جگہوں پر انہوں نے درستگی کروائی جسے چیٹ بوٹ نے تسلیم کیا

اور معذرت بھی کی۔اختتام پر جج نے لکھا کہ ضمانت کا فیصلہ عام طور پر اتنا طویل نہیں ہوتا تاہم ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث پوری کی پوری ڈسکشن لکھنا ضروری تھا۔جسٹس عامر منیر نے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ اس فیصلے کی ایک کاپی لاہور ہائی کورٹ کو بھی ارسال کی جارہی ہے تاکہ مستقبل میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے وقت اور وسائل کے ضیاع کو روکا جاسکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.