جس کو چور چور کہا وہ صادق اور امین نکلا اللہ تعالیٰ نے اس کو سچا ثابت کیا اور جو چور چور کہنے والے تھے ان کی اولادیں بھی چور نکلیں،مریم نواز کی سابق چیف جسٹس پر تنقید

13

لاہور( این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر و چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ جب عمران خان کے تمام حربے ناکام ہو گئے تو اب اس کو بچانے کے لئے نئی جوڈیشل اسٹیبلشمنٹ آ گئی ہے ،اس میں کچھ چہرے پرانے اور کچھ نئے چہرے شامل ہو گئے ہیں ، آج پیچھے سے بیٹھ کرڈوریاں کون ہلا رہا ہے؟،

ثاقب نثار جو ریٹائر ڈہو گیا ہے اس نے عمران خان کو لانے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا ہوا ہے،پارلیمنٹ نے جو قانون بنایا ہے وہ قانون سپریم کورٹ کو مضبوط بناتا ہے ، سازشوں اور ون مین شو کو ختم کرتا ہے ، پارلیمنٹ نے جو قانون بنایا ہے اس پر آپ کو عملدرآمد کرنا پڑیگا،آپ کو پارلیمنٹ کا فیصلہ ماننا پڑے گا ،پارلیمنٹ اپنا فیصلہ منوا کر رہے گی ،

آج قوم نظر رکھ کر بیٹھی ہے یہ کیا فیصلے کرتے ہیں،فیصلوں سے پہلے جس طرح کی نا موشی ہو رہی ہے اگر کوئی بھی عزت دار شخص ہوتا ہے جس پر اتنے سنگین الزامات لگے سنگین ثبوت سامنے آئے ہیں اگر ایسا کسی مہذب ملک میں ہوتا تو استعفیٰ دیکر گھر چلا جاتا تاہم یہ آج بھی وہیں کے وہیں بیٹھے ہیں،ا ن کو الیکشن کی جلدی نہیں ہے ،انہیں یہ فکر ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے الیکشن ہو جائیں ورنہ ہمیں الیکشن جتوانے والا کوئی نہیں ہوگا ،انتخابات اکتوبر میں ہی ہوں گے ، اس بار آرٹی ایس نہیں بیٹھے گا کیونکہ پرچہ آئوٹ ہو چکا ہے ،

میں اس حق میں ہوں کہ کسی کی ذاتی گفتگو ٹیپ کرنے کا کسی کو حق نہیں ، چیف جسٹس کی ساس صاحبہ اور خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ اپنی گفتگومیں گاجر کا حلوہ بنانے کی ترکیب ڈسکس کر رہی تھیں ؟، تین رکنی بنچ کاشہباز شریف سے کوئی معاملہ نہیں یہ اگلی تقرریاں روکنے کے لئے ہے ،سب ایک گروہ ہے یہ سمجھتا ہے ان کا بندہ نہ آیا ہے تو ان کی پوچھ گچھ شروع ہو جائے گی عمران خان سمیت سب احتساب سے بچنا چاہتے ہیں ،نواز شریف جلد ی ملک میں واپس آئے گا اور ترقی کا وہ سفر ،مزدور غریب کی سستی روٹی کا وہ سفر جو 2017ء میں ٹوٹا تھا وہ 2023میں دوبارہ شروع ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ماڈل ٹائون میں یوم مئی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سینیٹر پرویز رشید اور دیگر بھی موجود تھے۔ مریم نواز نے کہا کہ ہمارے ملک کے جو محنت کش ہیں جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں ان کا مسلم لیگ (ن) میں اتنا بڑا اور متحرک ونگ ہے مجھے تو اس کا علم ہی نہیں تھا ،جس پارٹی کا اتنا مضبوط لیبر ونگ ہے اس ملک کی معیشت کو آنچ نہیں آسکتی ،اتنے سخت اورمشکل معاشی حالات میں بھی وزیر اعظم شہباز شریف نے کم سے کم اجرت کو 35ہزار روپے تک مقرر کیا ہے ،میں آپ کا پیغام ان تک پہنچائوں گا کہ کم از کم اجرت 40ہزار روپے ہونی چاہیے ،

میں یہ بات اسحاق ڈار اور وزیر اعظم تک پہنچائوں گا اور مزید کوشش کروں گی کیونکہ یہ بھی بہت کم ہے ،پاکستان کی ترقی اور اس کے چلنے میں مزدور کا جتنا ہاتھ ہے شاید اتنی محنت کسی اور کی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں نے سعودی عرب میں پاکستانیوں کو محنت کرتے دیکھتا دیکھا ہے وہ اتنی محنت اور لگن سے کام کرتے ہیں ،مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ پاکستان میں کتنا پوٹینشل ہے ،پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں دی ہے اگر یہ ملک نواز شریف کے وژن کے مطابق چلے اور ملک کی ترقی میں کوئی رکاوٹ آڑے نہ آئے تو لوگوں کو باہر جا کر مزدوری کرنے کی ضرورت نہیں پڑے ۔

مریم نواز نے کہا کہ زیادہ دور کی بات نہیں ہے 2017ء کی بات ہے جب روٹی 2روپے کی تھی اور مزدور اور اس کے بچے پیٹ بھر کر کھانا کھاتے تھے ، مزدورکے بچے سکول جاتے تھے ، ملک میں ترقی آرہی تھی ،سی پیک بن رہا تھا ،سڑکیں بن رہی تھیں ،موٹر ویز بن رہی تھیں،کارخانے لگ رہے تھے ،لوڈ شیڈنگ ختم ہو رہی تھی ،دہشتگردی ختم ہو رہی تھی ،معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی، پاکستان کا شمار بیس سے پچیس کامیاب معیشتوں میں ہو رہا تھا، پاکستان میں جو بھی ترقی ہو رہی تھی اس کا پھل مزدور کو پہنچ رہا تھا لوگ بھوکے نہیں مر رہے تھے آج آپ دیکھیں سب سے زیادہ ترقی میں ہاتھ مزدور کا ہے لیکن اس کو روٹی نہیں ملتی ۔

انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ فتنہ مزدوروں کے لئے ریلی نکال رہا ہے ، تم ریلی نہ نکالو تم صرف پاکستان کے خلاف سازش کرنا بند کر دو مزدور کا بھلاہو جائے گا،سازشی طریقوں سے اقتدار کے راستے ڈھونڈنا بند کرو مزدور کی روٹی ٹھیک ہو جائے گی ۔اس ملک کے اندر اتنا پوٹینشل ہے لیکن ملک کی ترقی کی راہ میں ایک شخص حائل ہے جس کا نام عمران خان ہے ،میں اس لئے اس کا نام نہیں لے رہی کہ وہ میرا سیاسی مخالف ہے ، وہ سیاسی مخالف نہیںبلکہ وہ دہشتگرد ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مذہب کے اندرفتنے کی تشریح دیکھ لیں وہ عمران خان پر فٹ نظر آتی ہے،میں جیت جائوں تب بھی ملک کی تبائوں کروں گا ،ہار جائوں تب بھی ملک کو چلنے نہیں دوں گاجو یہ کرتا ہے اس کا نام عمران خان ہے ،خدا کے واسطے اس ملک پر رحم کرو۔

مریم نواز نے کہا کہ وہ بھی وقت بھی جب ڈالر 98سے100روپے کا تھا ،2013سے2017ء تک نواز شریف وزیر اعظم آفس میں تھے تو مزدور کے لئے آٹے کی قیمت35روپے سے بڑھنے نہیں دی ،چینی کی قیمت مزدور کے لئے 50روپے سے بڑھنے نہیں دی ،سبزیوں اور پھلوں کی قیمت بڑھنے نہیں دی ، مزدور اور غریب پیٹ بھر کر کھانا کھاتے تھے، اس ملک میں موٹر ویز بن رہی تھیں سڑکیں بن رہی تھی اورنج لائن بن رہی تھی ترقیاتی منصوبوں کا فائدہ کس کو ہو رہا تھا اس کا فائدہ غریب اور مزدور کوہو رہا تھا، پھر کس کی تکلیف ہوئی کہ دو روپے کی روٹی آج بیس سے پچیس کی فروخت ہو رہی ہے، ڈالر 280کا ہو گیا بتائو اس کا کس کو الزام دینا ہے ، اس کا ذمہ دار ار صرف عمران خان نہیں بلکہ پورا ٹولہ اور گینگ ذمہ دارہے جس نے ملک کو نوچ نوچ کر کھایا ہے ،ملک کی جڑیں کو کون کھوکھلا کر رہا ہے ، کون گِدھوںکی طرح کون نوچ کر کھا رہا ہے اس گینگ کا سرغنہ عمران خان ہے ۔

اس گینگ میں ملک کے طرح طرح کرپٹ ترین شامل ہیں،چاہے وہ ثاقب نثار ہو، جنرل (ر)فیض ہو ، یا جسٹس مظاہر علی نقوی ہو یا ان کا کوئی آلہ کار ہو اس گینگ میں پاکستان کے کرپٹ ترین لوگ شامل ہیں ۔مریم نواز نے کہا کہ 2017ء میں جب نواز شریف اور آپ کا پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا تھا تو 2014ء میں اس کا دھرنا فیل ہوا ،2016کا اس کا لاک ڈائون ناکام ہوا ،جب پے درپے ہر چال ناکام ہوئی تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دیکھا کہ عمران خان کی تو ہر چال ناکام ہو رہی ہے اس نے عمران خان کو کہا ادھر اُدھر مارے مارے کیا پھرتے ہوئے میرے پاس آئو میںنواز شریف کو تمہارے راستے سے کانٹے کی طرح ہٹاتا ہوں،پھر اقامہ نکلا اور نواز شریف کو وزیر اعظم آفس سے نکال دیا گیا ، اس کا نواز شریف کو نقصان کم ہوا پاکستان کو زیادہ ہوا ہے ،اس سے پاکستان جو ٹریک سے اتر گیا دوبارہ پاکستان ٹریک پر چڑھتا ہوا نظر نہیں آتا۔

ان کو نظر آرہا تھا کہ ملک ترقی کر رہا ہے لیکن کسی کو توسیع چاہیے تھی کسی نے وزیر اعظم بننا تھاکسی نے کچھ اورکرنا تھا ،یہ ٹولے ایک دوسرے کابینی فشری تھا ،انہوں نے ملک کااتنا بڑا نقصان کر دیا ہے کہ آج ملک سنبھلنے میں نہیں آرہا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت ختم ہوئی تو لانگ مارچ ناکام ہوا،جیل بھرو تحریک ناکام ہوئی ،نئے آرمی چیف کی تقرری کو روکنے کی سازش ناکام ہوئی ، پھر اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ ناکام ہوا آج نئی جوڈیشل اسٹیبلشمنٹ اس کو بچانے کے لئے آ گئی ہے ، اس میں کچھ چہرے پرانے ہیں اور کچھ نئے چہرے شامل ہو گئے ہیں ، ان کا آپس میں مفاد ہے ، یہ شیطانی اتحاد ہے ،اس میں نواز شریف فٹ نہیں ہوتا،نواز شریف پراتنے جھوٹے الزامات لگائے ،نہ وہ کھاتا ہے نہ کھانے دیتا ہے ، یہ کھاتے بھی ہیں اور کھلاتے بھی ہیں ۔

جب عمران خان کا ہر حربہ ناکام ہوا تو اس کو بچانے کے لئے تین رکنی بنچ آ گیا ، آج ملک جتنے بھی آئینی و قانونی ہچکولے کھا رہا ہے اس کا ذمہ دار سو موٹو نوٹس ہے جو جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے لیا ،عمران خان کی سیاست ہچکولے کھا رہی تھی پے درپے ناکام ہو رہی تھی تو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی طرح پھر کہا گیا کہ اس کو سہارا دو اس کو کندھا دو،جو کیس لاہور ہائیکورٹ میں چل رہا تھا اس کو سپریم کورٹ کا تین رکنی زبردستی اپنے پا س لے گیا اور سو موٹو نوٹس لیا گیا، آج پاکستان میں معیشت کا برا حال ہے ، ترقی جام ہو چکی ہے لیکن ملک کوزبردستی کے مسائل میں الجھایا ہوا ہے ، ا ن کو الیکشن کی جلدی نہیں ہے بلکہ انہیں یہ فکر ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے الیکشن ہو جائیں ورنہ ہمیں الیکشن جتوانے والا کوئی نہیں ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ سازش کو سمجھنے کی ضرورت ہے ،سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس اطہر من نے سوال کیا الیکشن سے پہلے اس فیصلے کی ضرورت ہے کہ اسمبلی توڑی کیوں گئی ، اس وقت اسمبلی بد نیتی سے توڑی گئی، پرویز الٰہی اسمبلی توڑنا نہیں چاہتا تھا عمران خان نے زبردستی تڑوائی ، وہ بات تو پیچھے رہ گئی اصل سازش کا بھانڈا خود فنتہ خان نے پھوڑا کہ حکومت ختم ہونے کے بعد ایوان صدر میں میں جنرل باجوہ سے ملا تب تک وہ چیف آف آرمی سٹاف تھے ،صدر کی موجودگی میں جنرل باجوہ نے کہا کہ تم اسمبلیاں توڑ دو اس طرح اسمبلی ٹوٹی ،آج عوام کا سوال کرنا بنتا ہے کہ کس منصوبے کے تحت آپ کو کہا گیا ،یہاں پر بات ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ کہا گیا کہ سپریم کورٹ میں سہولت کار بیٹھے ہیں جو آپ کو الیکشن دیں گے ۔

جس طرح قانون ،آئین اورانصاف کا تماشہ بنا کر رکھ دیا گیا اس میں صرف عوام نہیں بولے سیاستدان نہیں بولے بلکہ اس میں سپریم کورٹ کے برادر ججز خود بول اٹھے اور چیخ اٹھے یہ کیا ہو رہا ہے ، سپریم کورٹ میں اتنی بڑی جنگ شروع ہو گئی ہے کہ پاکستانی قوم کا سر شرم سے جھک گیا ، آج صرف میں بات نہیں کر رہی سیاستدان ،پارلیمنٹ بات نہیں کر رہی بلکہ برادر ججز نے اس نا انصافی کے خلاف اس سازش کے خلاف اٹھائی ،اس کے بعد بار کونسلز نے آواز اٹھائی ہے ۔جس کو تم میر جعفر کہتے تھے جس کو غدار کہتے تھے اس کے کہنے پر اسمبلی کیوں توڑی ، اس سے آگے منصوبہ تھا تم اسمبلی توڑوں تین رکنی بنچ تمہیں الیکشن دے گا۔ آج نیا الیکشن ہونے جارہا ہے جو اکتوبر میں ہونا ہے آج یہ آرٹی ایس نہیں بٹھا سکتے تو سہولت کاروں نے اسے لانے کا یہ منصوبہ بنایا ، پیپر آئوٹ ہو گیا ہے ، تمہارا یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا۔

مریم نواز نے کہا کہ آج پیچھے سے بیٹھ کرڈوریاں کون ہلا رہا ہے، ثاقب نثار جو ریٹائر ہو گیا ہے اس نے عمران خان کو لانے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا ہوا ہے ۔ قدرت کا مکافات عمل دیکھو نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پروزیر اعظم کے دفتر سے نکلایا آج اس کا اپنا بیٹا ایک کروڑ بیس لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے پکڑا گیا ۔ثاقب نثار کا بیٹا کہہ رہا ہے اگر تم نے ایک کروڑ بیس لاکھ سے کم لئے تو میں تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا،چور کا بیٹا چور ہوتا ہے ،والد نے اس کو کیسی ٹریننگ دی ہوئی ہے ، اب ریٹائرڈ ہے تو یہ عالم ہے جب یہ پاکستان کی سب سے بڑی انصاف کی کرسی پر ہوگا تب یہ کیا نا انصافی کرتا ہوگا،آج پاکستان کی عوام پوچھتی ہے ثاقب نثار ایک ٹکٹ کے ایک کروڑ بیس لاکھ لے سکتا ہے ہے تو پانامہ کیس میں نواز شریف کے خلاف فیصلہ کرنے کے تم نے کتنے پیسے لئے ؟،

میرے خلاف آڈیو آئی جس میں کہ رہا ہے کہ مریم کو ٹھوک دو مطلب مار دو کیونکہ وہ تمہارا چہرہ عوام میں ایکسپوز کرتی ہے ، سخت زبان بولتی ہے ، عوام نے آڈیو میں اس کے بیٹے کی زبان سن لی ہے جس میں گالی دئیے بغیر اس کی کوئی بات مکمل نہیں ہوتی ۔مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف نے کہا تھاکہ میں نے اپنا فیصلہ رب العزت پر چھوڑ دیا آج نواز شریف کو کچھ کرنے کی ضرورت ہے ، یہ خود بھی بول رہے ہیں ان کے ساتھی بھی بول رہے ہیں ان کے بچے بھی بول رہے ہیں ،مہذب ممالک میں عدالتوں میں دیکھو تو وہاں آئین پر فیصلے ہوتے قانون اور میرٹ پر فیصلے ہوتے ہیں یہاں ساسوں کے کہنے پر ہوتے ہیںدامادوں کے کہنے پر ہوتے ہیں بیٹوں کی رشوت پر ہوتے ہیں ۔ اب آپ کو پتہ چلا ہے کہ اگر آج مزدور کے پاس روٹی نہیں ہے تو کیوں نہیں ہے ، آج پاکستان کی ترقی خواب ہو گئی ہے تو کیوں ہوگئی ہے اس لئے کہ یہاں سوا سوا کروڑ میں انصاف بک رہا ہے ۔

پرچہ آئوٹ ہو گیا ہے ، وہاں پلاننگ یہ ہو رہی ہے ،ثاقب نثار خواجہ طارق رحیم کو کیا کہہ رہے ہیں وزیر اعظم کے خلاف توہین کی درخواست دیں ، پہلے نا انصافی اور سازش کریں پھر توہین عدالت کی درخواست دیں ، ہم یہ بھگت کر آئے ہیں اب تمہاری باری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کی ساس صاحبہ کہہ رہی ہیں میں عمران خان کے جلسے میں گئی تھی وہاں لاکھوں لوگ تھے ، ہر شہر میں لاکھوں لوگ تھے جو عمر کیلئے دعا ئیں کر رہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ جب آڈیوز باہر آئی تو یہ کہا گیا کسی کی ذاتی باتیں ہیں یہ کیوں ٹیپ ہوئی اور سامنے آئیں ، میں اس حق میں ہوں کہ کسی کی ذاتی گفتگو ٹیپ کرنے کا کسی کو حق نہیں لیکن یہ ذاتی گفتگو نہیں ،جس میں ملک کی تقدیر کے فیصلے ہو رہے ہوں وہ ذاتی گفتگو نہیں ہوا کرتی ، چیف جسٹس کی ساس صاحبہ اور خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ اپنی گفتگومیں گاجر کا حلوہ بنانے کی ترکیب ڈسکس کر رہی تھیں ؟

وہ بتا رہی ہیں کہ سازش کس طرح ہونی ہے اور عمران خان کو کس طرح واپس لے کر آنا ہے ، یہ ذاتی گفتگو نہیں ہوتی ،ان کے پاس جواب نہیں ہے کہ اتنے بڑے بڑے انکشافات ہوئے ہیں اس بات پر آ گئے ہیں آڈیوز کیوں ریلیز ہوئی ، سازشوں اور فیصلوں میں گھر کا ہر فرد شامل ہے ،آپ کو قوم کو جواب دینا پڑے گا،ملک کے بھوکے مزدوروں کو جواب دینا پڑے گا۔ملک میں جو ایک ٹولہ ہے گینگ ہے وہ اس کو واپس لانا چاہتا ہے ،پہلے آرٹی ایس بٹھا کر آیا تو معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے ، پوری دنیا کے ساتھ تعلقات تباہ کر دئیے، شہباز شریف جہاں بھی جاتے ہیں وہاں کہا جاتا ہے کہ پہلے یہ گارنٹی دو عمران خان تو واپس نہیں آئے گا، اس نے ایک ملک کو دوسرے ملک سے لڑا دیا ، ہم اس کی اس کی لائی ہوئی تباہی کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس میںوقت لگے گا لیکن پاکستان اس بحران سے باہر آئے گا ۔

مریم نواز نے کہا کہ تین رکنی بنچ سے پوچھتی ہوں آپ کس کے لئے یہ کر رہے ہو ،اس شخص کے لئے کر رہے ہو جس کے پاس نہ کردار ہے نہ کارکردگی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ تین رکنی بنچ کاشہباز شریف سے کوئی معاملہ نہیں یہ اگلی تقرریاں روکنے کے لئے ہے ،سب ایک گروہ ہے یہ سمجھتا ہے ان کا بندہ نہ آیا ہے تو ان کی پوچھ گچھ شروع ہو جائے گی عمران خان سمیت سب احتساب سے بچنا چاہتے ہیں ۔ آپ کس شخص کو دوبارہ مسلط کرنا چاہتے ہیں جو جب نشہ کرتا ہے تو اسے سمجھ نہیں آتا وہ بول کیا رہاہے ، پہلے استعفے دئیے اور کہا کہ ہمارے استعفے منظور کئے جائیں اور اب کہہ رہے ہیں ہمارے استعفے منظور نہ کئے جائیں، بڑی رعو نت سے اسمبلیاں توڑیں اور اب سپریم کورٹ جانے والے ہیں کہ اسمبلیاں بحال کی جائیں ،کیوں کی جائیں یہ ملک تمہارے والد صاحب کا ملک ہے ،ملک کے مالک تم نہیں ہے منشیات زدہ دماغ نہیں ہے سہولت کار نہیں اس ملک کے مالک بائیس کروڑ عوام ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو باہر کرنے کے لئے کتنی آسان ہے کہ بلیک لاء ڈکشنری آ جائے تو نواز شریف وزیر اعظم آفس سے باہر ہے ،جونا انصافی کرنے والے جج تھے ارشد ملک مرحوم نے خود گواہی دیدی ،اس ملک میں نا انصافی کرنا آسان ہے لیکن اسی نا انصافی کو انصاف میں بدلنا بہت مشکل ہے اس کے لئے آئین و قانون یاد آ جاتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ملک کی 75سالہ تاریخ میں نواز شریف کے نو سال نکال دو باقی کیا بچتا ہے کھنڈرات بچتا ہے، نو سال میں نواز شریف نے ملک کو اتنا کچھ دیا جو باقی 65سال بچتے ہیں کیوں ملک کو کچھ نہیں کیا ،نواز شریف آتا ہے ترقی کے لئے دن رات ایک کرتا ہے مزدور کی روٹی کے لئے دن رات ایک کرتا ہے ، لیکن تم آرٹی ایس بٹھا کر آتے ہو تو گھڑیاں بیچنے کا کاروبار شروع کر دیتے ہو ،اس کے بعد بیوی وہ الگ دکان کھول لیتی ہے ، فائل پر دستخط کے لئے پانچ ،پانچ قیراط کی ہیرے کی انگوٹھی رشوت میں لیتی ہے ۔

جس کو چور چور کہا وہ صادق اور امین نکلا اللہ تعالیٰ نے اس کو سچا ثابت کیا اور جو چور چور کہنے والے تھے ان کی اولادیں بھی چور نکلیں ۔عوام سے پوچھتی ہوں پتہ چلا ہے کہ ملک میں اصل سسیلین مافیا اور اصل گارڈ فادر کون ہیں ، یہ سارے سازشی گٹھ جوڑ ہے جنہوں نے پیسے بنائے ہوئے ہیں کھائے بھی ہوئے اور کھلائے بھی ہوئے ہیں ،کوئی نیک نام بندہ یہ سسٹم میں آنے نہیں دیتے کیونکہ ان کے پول کھلتے ہیں ۔ ان شا اللہ یہ خود ہی ایک دوسرے کو ایکسپوز کریں گے اورنواز شریف آرام سے بیٹھ کر انہیں دیکھیں گے۔ مریم نواز نے کہا کہ پارلیمنٹ نے جو قانون بنایا ہے وہ قانون سپریم کورٹ کو مضبوط بناتا ہے اورسازشوں کو ختم کرتا ہے ،ون مین شو کو ختم کرتا ہے ، کچھ لوگوں کو قانون کی تکلیف اس لئے ہے کہ وہ ون مین شو کو ختم کرتا ہے نا انصافیوں کو ختم کرتا ہے ،

پارلیمنٹ کو آئین نے حق دیا ہے کہ وہ ملک اور عوام کی بہتری کے لئے قانون بنائے ،پارلیمنٹ نے جو قانون بنایا ہے اس پر عملدرآمد بھی ہوگا اور آپ کو اس پر عملدرآمد کرنا پڑے گا۔ آپ کو پارلیمنٹ کا فیصلہ ماننا پڑے گا آپ کو ملک کے آئین کا فیصلہ ماننا پڑے گا قانون کا فیصلہ ماننا پڑے گا،منتخب نمائندوں کا فیصلہ ماننا پڑے گا اور پارلیمنٹ اپنا فیصلہ منوا کر رہے گی ۔اس ملک کا آئین سپریم ہے ،پارلیمنٹ کو طاقت دی ہے وہ سپریم ہے ،آج قوم نظر رکھ کر بیٹھی ہے یہ کیا فیصلے کرتے ہیں،فیصلوں سے پہلے جس طرح کی نا موشی ہو رہی ہے اگر کوئی بھی عزت دار شخص ہوتا ہے جس پر اتنے سنگین الزامات لگے سنگین ثبوت سامنے آئے ہیں اگر ایسا کسی مہذب ملک میں ہوتا تو استعفیٰ دے کر گھر چلا جاتا لیکن یہ آج بھی وہیں کے وہیں بیٹھے ہیں۔آپ کو پارلیمنٹ کا فیصلہ ماننا پڑے گا ،نواز شریف بھی جلد ی ملک میں واپس آئے گا اور ترقی کا وہ سفر ،مزدور غریب کی سستی روٹی کا وہ سفر جو 2017ء میں ٹوٹا تھا وہ 2023ء کے الیکشن کے بعد نواز شریف کی قیادت میں دوبارہ شروع ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.