خانہ جنگی کے باوجود سوڈان نہ چھوڑنے والے پاکستانی منظر عام پرآگئے

23

خرطوم(این این آئی)خانہ جنگی کے شکار سوڈان سے جہاں ایک طرف کئی غیر ملکیوں کا انخلا ہو چکا ہے، کئی اپنے وطن لوٹنے کے منتظر ہیں وہیں کچھ پاکستانی شہریوں نے خانہ جنگی کے باوجود سوڈان نہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق 21 اپریل کو خرطوم میں خانہ جنگی کے چھٹے روز پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے سوڈان میں موجود 1500 پاکستانی شہریوں کو میسیج بھیجا گیا کہ اگر آپ لوگ پاکستان واپس جانا چاہتے ہیں تو دارالخلافہ میں موجود پاکستانی سفارت خانے کے احاطے میں پہنچ جائیں۔

سفارتی حکام کا پیغام ملنے کے بعد رضاکارانہ طور پر اپنے ہم وطن ساتھیوں کو آگ اور خون سے اٹی خطرناک سڑکوں پر ڈرائیو کرکے سفارت خانے تک پہنچانے والے 35 سالہ عرفان خان نے پاکستان واپس لوٹنے کے بجائے سوڈان میں ہی قیام کرنے کا فیصلہ کیا۔ کراچی کے رہائشی عرفان خان سوڈان کے دارالخلافہ خرطوم میں چشموں کی دکان چلاتے ہیں اور وہ حالات میں بہتری کیلئے پرامید ہیں اس لیے انہوں نے پاکستان واپسی کے بجائے سوڈان میں ہی قیام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس حوالے سے عرفان خان کا کہنا تھا کہ اپنے ساتھیوں کو سفارت خانے تک لے جاتے ہوئے دس بارہ کلومیٹر کے سفر میں 6 سے زائد مقامات پر ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف)اور فوجی اہلکاروں نے ہمیں روک کر شناخت کروانے کا کہا، یہ پورا سفر بہت تنا ئوبھرا تھا اور ایک گھنٹے بعد میں نے اپنے ساتھیوں کو سفارت خانے کی عمارت میں پہنچانے میں کامیاب ہوا۔انہوں نے بتایا کہ ساتھیوں کو سفارت خانے پہنچانے کے بعد میں واپس آگیا، میں نے یہیں رہنے کا فیصلہ کر لیا تھا کیونکہ میرا کاروبار، میرے دوست اور میرا نیٹ ورک سب یہاں ہے، اس وقت حالات خراب ہیں تو کیا ہوا، کل یا پرسوں بہرحال حالات بہتر ہو جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ 14 سال قبل اپنے بھائی کے ساتھ سوڈان آیا تھا، بھائی واپس چلے گئے لیکن میں نے تب بھی یہیں رہنے کا فیصلہ کر لیا تھا کیونکہ مجھے کراچی کے مقابلے میں یہاں اپنے گھر جیسا محسوس ہوتا ہے یہ ملک اور یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جب خانہ جنگی شروع ہوئی تو اس وقت بہت خوفزدہ ہو گیا تھا لیکن بعد میں جب اپنے دوستوں سے بات کی اور باہر نکل کر دیکھا تو میرے خوف میں بڑی حد تک کمی آگئی ۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت اگر میں پاکستان واپس چلا جائوں تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ میں واپس آ سکوں گا؟ اس لیے میں نے یہیں رہنے کا فیصلہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ میری اہلیہ، بچے اور باقی گھر والے کراچی میں رہتے ہیں، وہ سب لوگ کہتے ہیں کہ میں واپس آجائوں لیکن میں نے انہیں بھی بتا دیا ہے کہ میں فی الحال یہیں رہوں گا اور اپنا کاروبار سنبھالوں گا۔عرفان خان کے علاوہ ایک اور پاکستانی شہری 40 سالہ جمیل حسین بھی ہیں جنہوں نے سوڈان نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ 2009 میں سوڈان آئے اور 2011 میں ایک سوڈانی خاتون سے شادی کی جس سے انہیں تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔جمیل حسین نے بتایا کہ خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد انہوں نے پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا تھا لیکن مجھے بتایا گیا کہ میری بیوی اور بچے سوڈانی شہری ہیں اس لیے انہیں پاکستان لے جانا مشکل ہے البتہ اگر آپ پاکستان واپس جانا چاہیں تو آپ کی واپسی کے انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔جمیل حسین نے بتایا کہ سفارت خانے کا جواب سننے کے بعد میں نے یہیں رہنے کا فیصلہ کیا ہے، میں اپنے بیوی بچوں کو یہاں چھوڑ کر واپس نہیں جا سکتا، کیونکہ اگر میں واپس چلا گیا تو نہیں معلوم واپس آسکوں گا یا نہیں۔

موضوعات:سوڈان

جانوروں سے بھی بدتر

ہسکی برفیلے علاقوں کے کتے ہیں‘ یہ سائبیریا‘ مشرقی یورپ اور قطب شمالی میں پائے جاتے ہیں‘ بھیڑیے کی نسل سے ہیں‘ جسمانی لحاظ سے طاقتور ہوتے ہیں اور سردی اوربھوک برداشت کر جاتے ہیں‘ برفیلے علاقوں کے لوگ انہیں برف گاڑی میں جوت کران سے باربرداری کا کام لیتے ہیں اور ہسکی کتے لوگوں اور سامان کو گھسیٹ کر ….مزید پڑھئے‎

ہسکی برفیلے علاقوں کے کتے ہیں‘ یہ سائبیریا‘ مشرقی یورپ اور قطب شمالی میں پائے جاتے ہیں‘ بھیڑیے کی نسل سے ہیں‘ جسمانی لحاظ سے طاقتور ہوتے ہیں اور سردی اوربھوک برداشت کر جاتے ہیں‘ برفیلے علاقوں کے لوگ انہیں برف گاڑی میں جوت کران سے باربرداری کا کام لیتے ہیں اور ہسکی کتے لوگوں اور سامان کو گھسیٹ کر ….مزید پڑھئے‎

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.