سیاسی فیصلے عدالتوں میں لے جائے جائیں گے تو عدالتی بحران جنم لے گا، آل پارٹیز کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ

13

اسلام آباد (این این آئی) عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ پارلیمانی بالادستی کو ہر صورت میں یقینی بنایا جائے،موجودہ سیاسی، عدالتی اور اقتصادی بحران نے غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے، سیاست اگر ختم ہوگی تو آئینی اور پارلیمانی بالادستی کو خطرات لاحق ہونگے، سیاسی فیصلے عدالتوں میں لے جائے جائیں گے تو عدالتی بحران جنم لے گا،

انتخابات کی تاریخ پر اختلاف کو حل کرنے کیلئے تمام آئینی، قانونی اور سیاسی پہلوؤں کو مد نظر رکھنا ہوگا، پورے ملک میں منصفانہ مردم شماری کا انعقاد ممکن بنایا جائے، دہشت گردی کے حوالے سے جو متفقہ نیشنل ایکشن پلان بنا تھا اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا؟ اسکے ذمہ داروں کا محاسبہ کیا جائے،پختونخوا میں نافذ ایکشن ان ایڈ آف سول پاور جیسے عوام دشمن اور مارشل لائی قانون کا فوری خاتمہ کیا جائے،اٹھارہویں آئینی ترمیم پر اسکی اصل روح کے مطابق عملدرآمد کیا جائے،صوبائی خودمختاری کے خلاف کسی بھی سازش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

بدھ کو عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں آفتاب احمد خان شیرپاؤ (قومی وطن پارٹی)، نیئر حسین بخاری، نویدقمر (پی پی پی)، فاروق ستار (ایم کیو ایم)، لیاقت بلوچ، پروفیسر ابراہیم (جماعت اسلامی)، عبدالخالق ہزارہ (ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی)، ہارون الرشید (وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل)، افضل خاموش (مزدور کسان پارٹی)، عاصم سجاداختر (عوامی ورکرز پارٹی)، افراسیاب خٹک (این ڈی ایم)، خوشحال خٹک (پختونخوا ملی عوامی پارٹی)، واجد جہانزیب بلوچ (بی این پی مینگل)، طاہر بزنجو (نیشنل پارٹی)، زربادشاہ ایڈوکیٹ (وائس چیئرمین پختونخوا بار کونسل)، خالدمگسی (بلوچستان عوامی پارٹی) شامل ہیں۔

کانفرنس کے بعد جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیاکہ موجودہ سیاسی، عدالتی اور اقتصادی بحران نے غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے، سیاست اگر ختم ہوگی تو آئینی اور پارلیمانی بالادستی کو خطرات لاحق ہونگے،پارلیمانی بالادستی کو ہر صورت میں یقینی بنایا جائے۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ سیاسی فیصلوں کی جگہ سیاسی جماعتیں اور پارلیمان ہے، سیاسی فیصلے عدالتوں میں لے جائے جائیں گے تو عدالتی بحران جنم لے گا، جسکا ہم آج مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ عدالت کا کام آئین کی تشریح ہے، قانون سازی و آئین سازی پارلیمان کا اختیار ہے۔

اعلامیہ میں کہاگیاکہ انتخابات کی تاریخ پر اختلاف کو حل کرنے کیلئے تمام آئینی، قانونی اور سیاسی پہلوؤں کو مد نظر رکھنا ہوگا۔اعلامیہ میں کہاگیاکہ انتخابات جب بھی ہوں، وہ ایک ہی دن ہوں، تب ہی انتخابات کی شفافیت کو یقینی بنایا جاسکتا ہے، تمام سیاسی جماعتیں باہمی مذاکرات کے ذریعے انتخابات کی تاریخ کا تعین کریں۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ پورے ملک میں منصفانہ مردم شماری کا انعقاد ممکن بنایا جائے۔ اعلامیہ میں کہاگیا کہ مردم شماری کے حوالے سے پورے ملک باالخصوص پختونخوا کے نئے اضلاع، بلوچستان کے کوئٹہ اور دیگر پشتون علاقوں اور سندھ کے کراچی اور دیگر شہری علاقوں میں حالیہ مردم شماری پر تحفظات کو دور کیا جائے اور نئی منصفانہ حلقہ بندیوں کو یقینی بنایا جائے۔

اعلامیہ میں کہاگیاکہ پختونخوا اور ملک کے دوسرے حصوں میں دہشت گردی کی نئی لہر نے انتہائی خطرناک شکل اختیار کر لی ہے۔ ماضی میں ایسٹیبلیشمنٹ اور حکمرانوں کے غلط فیصلوں اور پالیسیوں کی وجہ سے دہشت گردی شروع ہوئی اور2014 میں ایک متفقہ نیشنل ایکشن پلان بنا۔ لیکن بدقستمی سے اسکو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ غیر آئینی مذاکرات، دہشت گردوں کی آباد کاری، بتھوں کی صورت میں انکی فنڈنگ اور جیلوں سے رہائی کی وجہ سے دہشت گردی کی ایک نئی لہرے جنم لیا۔اعلامیہ میں کہاگیاکہ دہشت گردی کے حوالے سے جو متفقہ نیشنل ایکشن پلان بنا تھا اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا؟ اسکے ذمہ داروں کا محاسبہ کیا جائے۔

اعلامیہ میں کہاگیاکہ عوام نے ماضی کے تمام فوجی آپریشنوں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے کیونکہ ان آپریشنوں کی وجہ سے دہشت گردوں کی بجائے عوام کو شدید جانی و مالی نقصانات اٹھانے پڑے ہیں،عوام دشمن آپریشنوں کے ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ سول آرمڈ فورسز (پولیس، لیویز وغیرہ) کو جدید خطوط پر منظم و مسلح کرکے عوام کی تائید و حمایت سے دہشت گردوں کے خلاف ٹارگیٹڈ اور موثر کارروائی کی جائے۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ پختونخوا میں نافذ ایکشن ان ایڈ آف سول پاور جیسے عوام دشمن اور مارشل لائی قانون کا فوری خاتمہ کیا جائے۔

اعلامیہ میں کہاگیاکہ عدالتی بحران اور سپریم کورٹ کی تقسیم انتہائی قابل افسوس ہے۔ فل کورٹ کا نہ بننا،63-اے کی تشریح کے بجائے آئین لکھنا اورتین، چار کا فیصلہ نہ ماننا اس بحران کی بنیاد ہے،ہمارا مطالبہ ہے کہ عدلیہ آئینی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے خود کو آئین کی تشریح تک محدود رکھے۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہ ہوکر رہ گئی ہے، معاشی بدحالی، مہنگائی اور بے روزگاری نے عام آدمی کی زندگی بہت مشکل میں ڈال دی ہے،بجلی، گیس، پٹرول اور آٹے کے بحران نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ایک نیا میثاق معیشت تشکیل دیا جائے۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ صوبائی خودمختاری کے خلاف کسی بھی سازش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اٹھارویں آئینی ترمیم پر اسکی اصل روح کے مطابق عملدرآمد کیا جائے۔اعلامیہ میں کہاگیاکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو یقینی بنایا جائے اور فوری طور پر نیشنل فنانس کمیشن کا اجرا کیا جائے،ساتھ ساتھ بجلی کے خالص منافع اور گیس و پٹرول کا سرچارج و رائلٹی اور ان جیسے دوسرے صوبائی آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ ملک میں طلبہ یونینز کو فوری طور پر بحال کیا جائے،نوجوان نسل کو جدید عصری تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ انیسویں آئینی ترمیم پر نظر ثانی کی جائے۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ تمام لاپتہ افراد فوری طور پر عدالتوں میں پیش کئے جائیں۔ جبری گمشدگی کے غیر انسانی اور غیر آئینی عمل کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ 1977کی زرعی اراضی کی اصلاحات کا قانون بحال کیا جائے اور شہری اراضی باالخصوص ریئل اسٹیٹ کی سکیمیوں کیلئے بھی حد مقرر کی جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.