دنیا میں خوراک کی قلت خطرناک حد تک بڑھ گئی، 25 کروڑ سے زائد افراد متاثر

12

اسلام آباد(این این آئی)دنیا بھر میں خوراک کا بحران شدت اختیار کرگیا۔ عالمی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کی جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ عالمی سطح پر خوراک کا شدید بحران سراٹھانے لگا ،کرونا وباء اورعالمی جنگوں کے باعث خوراک کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

کووڈ 19کی وبا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بھی خوراک کا عالمی بحران پیدا ہوا ، رپورٹ کے مطابق مسلسل چوتھے سال متاثرہ افراد کی تعداد میں ہوشربا حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ خوراک کا بحران مسلسل بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ سال 58 ممالک میں کم از کم 25 کروڑ 80 لاکھ افراد کو خوراک کی عدم دستیابی کا سامنا رہا۔خوراک کے بحران سے لوگوں کے روزگار اور کھانے پینے میں کمی کا سامنا کرنا پڑا، خراب صورتحال کے ممالک میں افغانستان،کانگو، شام،یمن، سوڈان اور ترقی پذیر ممالک جیسے نائیجریا اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ خوراک کی کمی کے شکار افراد کی تعداد سے تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے، تخمینے کے مطابق موسمیاتی اثرات سے پاکستان میں گزشتہ سال شدید سیلابی صورتحال سے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔عالمی طاقتیں اور دیگر ممالک کی حکومتیں خوراک کے بحران کی وجوہات کی روک تھام کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں۔

موضوعات:خوراک

جانوروں سے بھی بدتر

ہسکی برفیلے علاقوں کے کتے ہیں‘ یہ سائبیریا‘ مشرقی یورپ اور قطب شمالی میں پائے جاتے ہیں‘ بھیڑیے کی نسل سے ہیں‘ جسمانی لحاظ سے طاقتور ہوتے ہیں اور سردی اوربھوک برداشت کر جاتے ہیں‘ برفیلے علاقوں کے لوگ انہیں برف گاڑی میں جوت کران سے باربرداری کا کام لیتے ہیں اور ہسکی کتے لوگوں اور سامان کو گھسیٹ کر ….مزید پڑھئے‎

ہسکی برفیلے علاقوں کے کتے ہیں‘ یہ سائبیریا‘ مشرقی یورپ اور قطب شمالی میں پائے جاتے ہیں‘ بھیڑیے کی نسل سے ہیں‘ جسمانی لحاظ سے طاقتور ہوتے ہیں اور سردی اوربھوک برداشت کر جاتے ہیں‘ برفیلے علاقوں کے لوگ انہیں برف گاڑی میں جوت کران سے باربرداری کا کام لیتے ہیں اور ہسکی کتے لوگوں اور سامان کو گھسیٹ کر ….مزید پڑھئے‎

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.