پاکستان میں آٹا غریب کی پہنچ سے باہر کیوں؟

18

مکوآنہ (این این آئی)پاکستان میں ایک بار پھر گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ملک بھر میں آٹے کی قیمتیں روز بروز بڑھ رہی ہیں اور اس سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر کے آخری ہفتے میں آٹے کی قیمت میں تقریباً تین فیصد (2.81 فیصد) تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ رواں ہفتے میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں کم از کم 200 روپے تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔

موسم سرما کے دوران کئی علاقوں میں صورتحال یہ ہے کہ اگر گھر کی گیس کا پریشر کم ہو تو پھر تندور کا رُخ کرنا پڑتا ہے جبکہ تندور سے ایک روٹی 25 روپے سے کم کی نہیں مل رہی ہے۔ملک کے مختلف صوبوں میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت بھی یکساں نہیں ہے۔ اگر مارکیٹ ریٹ کی بات کی جائے تو صوبہ خیبرپختونخوا میں آٹے کی قیمت دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ ہے اور یہاں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2600 روپے تک میں فروخت ہو رہا ہے خیبرپختونخوا میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی سرکاری قیمت اگرچہ لگ بھگ مارکیٹ ریٹ سے نصف ہے تاہم عوام کی طویل قطاروں اور سرکاری آٹے کی محدود مقدار میں دستیابی کے باعث اس کا حصول لگ بھگ نامکن ہے۔پنجاب میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2450 سے 2500 روپے کے درمیان دستیاب ہے جبکہ صوبہ بلوچستان میں اس کی قیمت 2400 تک ہے۔اسی طرح صوبہ سندھ میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2500 سے 2600 کے درمیان دستیاب ہیایک زرعی ملک ہونے کے باوجود گذشتہ دو برسوں سے پاکستان اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے گندم کی درآمد پر انحصار کر رہا ہیگندم پاکستان میں خوراک کا اہم جُزو ہے اور ہر پاکستانی اوسطاً 124 کلو گرام گندم سالانہ کھا لیتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.