بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے وفاقی وزیر توانائی نے خوشخبری سنا دی

16

لاہور (این این آئی) وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں آ نے والے مہینوں میں اضافے کا کوئی امکان نہیں،220کلو میٹر پر محیط 15 ارب روپے کی لاگت سے تھر مٹیاری ٹرانسمیشن لائن مکمل کر لی ہے،آئندہ ملک میں امپور ٹڈ وسائل سے بجلی پیدا نہیں کی جائے گی،موجودہ حکومت نے ایک سال کے دوران سسٹم میں تین ہزار میگاواٹ بجلی شامل کی ہے،رواں ماہ کے دوران وزیر اعظم جیونی ٹرانسمیشن لائن کا افتتاح کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے واپڈا ہاؤس لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ وزیر توانائی نے کہا کہ عوام کو سستی بجلی فراہم کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے اور موجودہ حکومت بھر پور کوشش کر رہی ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے 15ارب روپے کی لاگت سے تھر مٹیاری ٹرانسمیشن لائن ریکارڈ مدت میں مکمل کی گئی ہے۔

اس منصوبہ کو مکمل کرنے کے لیے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مجھے خصوصی ہدایت کی تھی اور وزارت توانائی نے ڈھائی ماہ کی قلیل مدت میں اس منصوبے کو ممکمل کیا جس میں چار لائنیں 220کلو میٹر پر بچھائی گئی ہیں جو مجموعی طور پر 880کلو میٹر بنتا ہے۔ میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے اس منصوبے کی تکمیل میں ہمارا بھر پور ساتھ دیا کیونکہ اس ہائی وولٹیج لائن میں 70 فیصد میٹریل باہر سے منگوایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال میں ہم ایک اور ریکارڈ منصوبہ مکمل کر نے جارہے ہیں جو ایران سے گوادر تک جیونی ٹرانسمیشن لائن ہے جس پر کوئٹہ الیکٹر ک کمپنی نے کام کیا ہے اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف رواں ماہ کے وسط میں اس منصوبے کا افتتاح کریں گے۔ انہو ں نے کہا کہ 2018ء کے بعد ملک پر ترقی دشمن حکومت مسلط کر دی گئی جس کی زہریلی پالیسیوں کی وجہ سے ترقی کا سفر رک گیا۔

موجودہ حکومت نے ایک سال کے دوران تین ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کی ہے جس میں دو ہزار میگاواٹ تھر کوئلے سے بنائی گئی ہے، یہ وہ منصوبے ہیں جن کے سنگ بنیاد سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری نے رکھے تھے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے ہمیں خصوصی ہدایت کی ہے کہ ملک میں سستے ترین وسائل سے بجلی پیدا کی جائے اور آئندہ اب ملک میں امپورٹڈ وسائل سے بجلی پیدا نہیں کی جائے گی کیونکہ اس کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا ہے اور ہم صارفین کو مہنگی بجلی فراہم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ سیزن میں زیادہ بارشوں کی وجہ سے موسم خوشگوار رہا ہے جس کی وجہ سے ہمارے سسٹم پر زیادہ بوجھ نہیں پڑا اور تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح بھی بہتر ہے۔ موجودہ حکومت نے تہیہ کر رکھا ہے کہ ہم عوام کو کم سے کم قیمت پر بجلی فراہم کریں گے مگر سابقہ ترقی دشمن حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کر کے انہیں ادائیگی نہیں تھی جس کی وجہ سے ہم پر وہ ادائیگیاں کرنے کا پر دباؤ ہے، اگر و ہ ادائیگیاں نہ کرنی ہوتیں تو ہم صارفین کو فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 41 پیسے بجلی سستی فراہم کرتے، مگر آئی ایم ایف کے دباؤ کی وجہ سے 75 پیسے بجلی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگا کرنا پڑی،41 پیسے ریلیف کے بعد اب 34 پیسے فیول ایڈجسٹمنٹ صارفین کو دینا ہو گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر 10ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں اور یہ اہم سوال ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے پروگرام کے بغیر اپنی معاشی صورتحال بہتر کر سکتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت وزیر خزانہ بجٹ کی تیاری میں مصروف ہیں اور آئی ایم ایف کے پروگرام کے بھی منتظر ہیں۔خرم دستگیر نے کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے حکومت تھر سے صرف کوئلہ نکال رہی اور وہا ں کی عوام کو کوئی سہولت فراہم نہیں کر رہی حالانکہ حالات اس کے برعکس ہیں،اس وقت تھر میں حیران کن ترقی ہو چکی ہے وہاں پر بہترین سڑکیں، صحت کے مراکز اور سکولز قائم ہیں اور تھر کا شمار تھوڑے عرصے بعد ملک کے ترقی یافتہ شہروں میں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 2018 کا الیکشن دھاندلی زدہ تھا جس میں 31یا 32فیصد ووٹ لینے والی جماعت کو اقتدار میں لایا گیا جبکہ اب میں عوام کو بتا دینا چاہتا ہوں اس وقت ملک میں 68فیصد ووٹ لینے والی جماعتیں برسر اقتدار ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر آئین 90دن میں الیکشن کرانے کا کہتا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ صوبوں کو ساتھ لے کر چلیں اور تمام صوبوں میں ترقی کا سفر یکساں ہو نا چاہیے، اس لئے ملک میں عام انتخابات ایک ہی دن ہونے چاہئیں۔ٹم پر زیادہ بوجھ نہیں پڑا اور تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح بھی بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے تہیہ کر رکھا ہے کہ ہم عوام کو کم سے کم قیمت پر بجلی فراہم کریں گے مگر سابقہ ترقی دشمن حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کر کے انہیں ادائیگی نہیں تھی جس کی وجہ سے ہم پر وہ ادائیگیاں کرنے کا پر دباؤ ہے، اگر و ہ ادائیگیاں نہ کرنی ہوتیں تو ہم صارفین کو فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 41 پیسے بجلی سستی فراہم کرتے، مگر آئی ایم ایف کے دباؤ کی وجہ سے 75 پیسے بجلی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگا کرنا پڑی،41 پیسے ریلیف کے بعد اب 34 پیسے فیول ایڈجسٹمنٹ صارفین کو دینا ہو گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر 10ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں اور یہ اہم سوال ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے پروگرام کے بغیر اپنی معاشی صورتحال بہتر کر سکتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت وزیر خزانہ بجٹ کی تیاری میں مصروف ہیں اور آئی ایم ایف کے پروگرام کے بھی منتظر ہیں۔خرم دستگیر نے کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے حکومت تھر سے صرف کوئلہ نکال رہی اور وہا ں کی عوام کو کوئی سہولت فراہم نہیں کر رہی حالانکہ حالات اس کے برعکس ہیں،اس وقت تھر میں حیران کن ترقی ہو چکی ہے وہاں پر بہترین سڑکیں، صحت کے مراکز اور سکولز قائم ہیں اور تھر کا شمار تھوڑے عرصے بعد ملک کے ترقی یافتہ شہروں میں ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.