میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں، دو دن بعد آٹے کے حصول کی کوشش میں جاں بحق محنت کش کی بیٹی کی شادی تھی، غربت کا یہ عالم تھا کہ تدفین کے پیسے نہیں تھے

12

میرپورخاص(این این آئی)گزشتہ روز میرپورخاص میں سستا آٹا خریدنے کی کوشش میں بھیڑ تلے دب کر جان گنوانے والے ہرشنگ کی آخری رسومات ادا کردی گئی ہیں، وہ گھر جہاں دو دن بعد خوشیوں کے شادیانے بجنے تھے اب ماتم کدہ بن چکا ہے۔پچاس سالہ ہرشنگ میرپورخاص کے پسماندہ علاقے مالہی کالونی کا رہائشی تھا۔ وہ نو بچوں کا واحد کفیل تھا، اس کے دو بیٹے اور سات بیٹیاں تھیں، جن کا پیٹ پالنے کیلئے وہ مزدوری کرتا تھا۔ہرشنگ کا گھر نہایت خستہ حال ہے، جس کے در و دیوار سے غربت ٹپکتی صاف نظر آتی ہے۔غربت کا یہ عالم تھا کہ ڈپٹی کمشنر نے تدفین کے لئے لواحقین کو پچاس ہزار روپے دیئے۔دو دن بعد جاں بحق مزدور کی بیٹی کی شادی تھی۔ جس کے اخراجات ڈپٹی کمشنر میرپورخاص زین العابدین میمن نے اٹھانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.