سویڈن کے بعدڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی پاکستان کا شدید ردعمل

13

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان نے ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز کارروائیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے کے انتہائی احمقانہ اور جارحانہ فعل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اسلام فوبیا کے شکار افراد کی جانب سے چند روز قبل سویڈن میں بھی اسی طرح کی حرکت کی گئی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ متعدد بار اس طرح کے نفرت انگیز اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی منافرت پھیلانے اور تشدد پر اکسانے کیلئے آزادی اظہار کے حق کا غلط استعمال کی جارہا ہے۔دفتر خارجہ نے کہا کہ قرآن پاک کی بے حرمتی اس قانونی فریم ورک پر بھی سوالیہ نشان ہے، جس کے پیچھے مذہبی منافرت پھیلانے والے چھپتے ہیں، جب دنیا کو امن کے لیے بین المذاہب ہم آہنگی، باہمی احترام اور اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے، ایسے وقت میں عالمی برادری نفرت پھیلانے والوں سے آنکھیں بند نہیں کرسکتی۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ آزادی اظہار رائے ذمہ داریوں کے ساتھ آتی ہے، حکومت اور بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ اسلاموفوبیا اور نسل پرستی کے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔دفتر خارجہ نے کہا کہ واقعہ سے متعلق پاکستان کے تحفظات ڈنمارک کے حکام کو پہنچائے جارہے ہیں۔

پاکستان نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی عوام اور دنیا کے تمام مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھا جائے اور اس طرح کے اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز کارروائیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔خیال رہے کہ گزشتہ روز ڈنمارک میں بھی انتہائی دائیں بازو کے ڈینش سیاستدان راسموس پلودان نے قرآن پاک کے نسخے کو مسجد کے سامنے نذرآتش کردیا تھا۔

واقعے کے بعد ترکیہ حکام نے ڈنمارک کے سفیر کو طلب کر لیا تھا۔افسوس ناک واقعہ سے قبل 21 جنوری کو سویڈن میں ترکیہ سفارت خانے کے باہر ڈنمارک کے انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت کے رہنما کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی تھی۔سویڈن، نیدرلینڈ اور ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف پاکستان اور افغانستان سمیت ایران اور دیگر مسلم ممالک میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔

موضوعات:دفتر خارجہ

بشریٰ بی بی سے شادی

عون چودھری 2010ء سے 2018ء تک سائے کی طرح عمران خان کے ساتھ رہے‘ یہ رات کے وقت انہیں ملنے والے آخری اور صبح ملاقات کے لیے آنے والے پہلے شخص ہوتے تھے چناں چہ یہ عمران خان کی زندگی کے اہم ترین دور کے اہم ترین شاہد ہیں‘ مجھے چند دن قبل عون چودھری نے اپنے گھر پر ناشتے ….مزید پڑھئے‎

عون چودھری 2010ء سے 2018ء تک سائے کی طرح عمران خان کے ساتھ رہے‘ یہ رات کے وقت انہیں ملنے والے آخری اور صبح ملاقات کے لیے آنے والے پہلے شخص ہوتے تھے چناں چہ یہ عمران خان کی زندگی کے اہم ترین دور کے اہم ترین شاہد ہیں‘ مجھے چند دن قبل عون چودھری نے اپنے گھر پر ناشتے ….مزید پڑھئے‎

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.