الیکشن ملتوی کرانے کیلئے عمران خان پر حملہ ہو سکتا ہے،بھارت اور اسرائیل کی کون سی بات نہیں مانی، تہلکہ خیز دعویٰ

49

اسلام آباد (این این آئی)سابق وفاقی وزیر اور سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ الیکشن ملتوی کرانے کیلئے عمران خان پر حملہ جب کہ انہیں زہر اور سلو پوائزن بھی دیا جاسکتا ہے۔ ایک انٹرویومیں شیخ رشید احمد نے کہا کہ نواز شریف وطن واپس نہیں آرہے، مطلب ہے کہ نواز شریف سرینڈر کر گئے،

پہلے بھی کہا تھا فروری کا مہینہ اہم ہوگا، مقابلہ ڈالر اور پیٹرول میں ہے کہ پہلے کیا 300 روپے کا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اسرائیل اور بھارت سے بات چیت کو تیار نہیں تھا جس کا خمیازہ وہ بھگت رہا ہے لیکن اس کے باوجود عوام عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ ہم دلدل میں تھے مگر یہ حکومت گہرائی میں گرگئی ہے، سندھ میں آٹا نہ ملنے سے لوگ مر رہے ہیں، سب کا حساب ہونا چاہئے، حساب تو سب کا ہی ہوگا۔قومی اسمبلی کی نشستوں پر ضمنی الیکشن سے متعلق سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان نے میٹنگ بلائی ہے جس مین میرا بھتیجا شریک ہوگا، اتوار کو عمران خان فیصلہ کریں گے کہ تمام نشستوں سے وہ خود الیکشن لڑیں گے یا پی ٹی آئی کے امیدواروں ٹکٹ دیں گے۔سربراہ اے ایم ایل نے کہا کہ شہباز اور نواز دو مختلف پارٹیاں ہیں، ایک نے ڈیل کی، ایک نے ڈھیل لی، بڑے سیاستدان زمینی حقائق سے آشنا نہیں ہیں۔صوبوں میں الیکشن سے متعلق شیخ رشید نے کہا کہ حکومت صوبوں میں الیکشن کرانے کو تیار نہیں، کیونکہ گورنرخیبر پختونخوا نے کہا الیکشن کرانا الیکشن کمیشن، اسٹیبلشمنٹ کا کام ہے، لہذا صوبوں میں الیکشن کا فیصلہ عدالت کر سکتی ہے اور اگر انتخابات ہوگئے تو ان کی سیاست دفن ہو جائے گی۔پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان پر ایک اور حملے کا دعویًٰ کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ ان لوگوں نے عمران کو قتل کرانے کی سازش بنائی ہے، انہیں زہر اور سلو پوائزن بھی دیا جا سکتا ہے،

البتہ الیکشن ملتوی کرانے کے لئے عمران خان پر حملہ ہوسکتا ہے، اسی لئے میں نے انہیں تجویز دی ہے کہ بڑے جلسے نہ کریں اور باہر نہ نکلیں لیکن وہ ایکسرے ٹھیک آنے کے بعد باہر نکلیں گے۔انہوں نے کہا کہ جس نے پیسا لیا اس نے عمران خان کو بتایا کہ ان پر حملے کے لئے پیسہ دیا گیا ہے، عمران خان کو قتل کرانے کا منصوبہ بیرون ملک بنایا گیا۔سابق وزیر نے کہا کہ میرے حلقے کی عوام کے پاس قبر اور کفن دفن کے لئے پیسے نہیں ہیں،

میں نے اپنے لوگوں سے کہا ہے کہ کوئی کچھ چھیننے آئے تو اسے دے دو، لوہا اور گھروں کے میٹر چوری ہو رہے ہیں، میری گلی محلیغیر محفوظ ہیں تو پورا ملک غیر محفوظ ہے، آج کل لوگ سب دے دیتے ہیں لیکن اپنا موبائل نہیں دے پاتے۔شیخ رشید احمدنے دعویٰ کیا کہ آصف زرداری عمران خان کو جیل بھیجنے اور الیکشن کرانے کے خلاف ہیں، بھوک اتنی ہے کہ الیکشن لڑنا بھی آسان نہیں، آصف زرداری الیکشن کی راہ میں رکاوٹ ہیں،

میں نے حکومت گرنے سے 8 دن پہلے منسٹر ہاس خالی کر دیا تھا۔عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہونے پر سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران کو یقین تھا عدم اعتماد ناکام ہوگی، انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ پی ٹی آئی مدت پوری کرے گی لیکن ایم کیو ایم کے کچھ دوستوں نے بتا دیا تھا کہ ہم حکومت سے جا رہے ہیں۔اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں پر شیخ رشید نے کہا کہ میں چاہتا ہوں میرے اور عمران خان کے فوج سے تعلقات بہتر ہوں، دونوں فریقین کے درمیان عدم اعتماد کی فضا قائم ہے، میں نے عمران خان کو تجویز پیش کی کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فون کرکے حملے سے متعلق آگاہ کریں۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف سے ملاقات کے حوالے سے سربراہ اے ایم ایل نے کہا کہ 5 سال میں پہلی بار ایوان صدر جا کر عارف علوی سے ملاقات کی، صدر مملکت نے کہا کہ مجھے کوئی امید نہیں، عمران خان اور فوج کے درمیان مذاکرات میں کوئی پیشرفت ہورہی اور نہ کوئی درمیانی راستہ ہے۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ میں نے عمران سے کہا کہ معاملات بہت خراب ہیں اسی لئے آرمی چیف سے ملاقات کریں لیکن عمران نے مجھے اس معاملے پر بیچ میں نہ آنے کا کہا۔پرویز الٰہی کے بیان اور فواد چوہدری کی گرفتار پر انہوں نے کہاکہ پرویز الٰہی میرے خلاف بھی باتیں کر چکے ہیں، فواد کے خلاف بیان پر پرویز الہی معذرت کرچکے ہیں اسی لئے اب کچھ کہنا درست نہیں، البتہ فواد چوہدری کو منشی کہنے پر گرفتار نہیں کیا گیا، ہر کیس کے پیچھے کوئی فیس ہوتا ہے۔

موضوعات:شیخ رشید

بشریٰ بی بی سے شادی

عون چودھری 2010ء سے 2018ء تک سائے کی طرح عمران خان کے ساتھ رہے‘ یہ رات کے وقت انہیں ملنے والے آخری اور صبح ملاقات کے لیے آنے والے پہلے شخص ہوتے تھے چناں چہ یہ عمران خان کی زندگی کے اہم ترین دور کے اہم ترین شاہد ہیں‘ مجھے چند دن قبل عون چودھری نے اپنے گھر پر ناشتے ….مزید پڑھئے‎

عون چودھری 2010ء سے 2018ء تک سائے کی طرح عمران خان کے ساتھ رہے‘ یہ رات کے وقت انہیں ملنے والے آخری اور صبح ملاقات کے لیے آنے والے پہلے شخص ہوتے تھے چناں چہ یہ عمران خان کی زندگی کے اہم ترین دور کے اہم ترین شاہد ہیں‘ مجھے چند دن قبل عون چودھری نے اپنے گھر پر ناشتے ….مزید پڑھئے‎

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.