سائنس دانوں نے گیس کے چولھے پر کھانا پکانا نقصان دہ قراردیدیا

15

لندن(این این آئی)پوری دنیا میں کھانا پکانے کے لیے گیس چولھوں کا استعمال ہو رہا ہے، تاہم اب سائنس دانوں نے ایک تحقیق کے نتائج میں انکشاف کیا ہے کہ گیس کے چولھے پر کھانا پکانا صحت کے لیے آلودہ شہر میں رہنے سے زیادہ نقصان دہ ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گیس چولھوں سے نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور نہایت نقصان دہ مائیکرو ذرات (پارٹیکیولیٹ میٹر)بنتے ہیں، یہ زہریلے مادے بالخصوص پھیپھڑوں کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خطرناک زہریلے مادے ان گیسوں کا حصہ ہوتے ہیں جو گاڑیوں سے خارج ہوتی ہیں، یہ مادے پھیپھڑوں میں جا کر جلن پیدا کرتے ہیں اور یہاں تک کہ خون میں بھی داخل ہو جاتے ہیں، جس سے دل کی بیماری، کینسر اور حتی کہ الزائمر کی بیماری ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان زہریلے مادوں سے بچوں میں دمہ کی بیماری مزید بگاڑ پیدا کر دیتے ہیں، امریکا میں بچوں میں دمہ کے 8 میں سے ایک کیس کھانا پکانے سے خارج ہونے والی آلودگی کا نتیجہ ہے۔رپورٹ کے مطابق بچوں اور بوڑھوں کو ان چولھوں سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے، گیس کے چولھے گھر کی فضاء مصروف شاہرائوں سے زیادہ آلودہ کر دیتے ہیں۔جب ریسرچ میں شامل بچوں کو بیگ میں لگے آلودگی کے مانیٹر کے ساتھ سکول بھیجا گیا تو یہ انکشاف ہوا کہ باہر سے زیادہ گھر میں شام کے وقت بچوں کو آلودگی کا سامنا تھا جس وقت ان کے والدین کھانا پکا رہے تھے۔امپیرئل کالج لندن کی پروفیسر فرینک کیلی کے مطابق گیس چولھے گھر کی فضا آلودہ کرنے کا بڑا سبب ہیں، یہ دمے اور صحت کے دیگر مسائل کا سبب ہو سکتے ہیں اور ان کو بد تر کر سکتے ہیں۔محققین نے کہا کہ اگر ہم نے چولھے سے چھٹکارا حاصل کر لیا تو ہم بچوں میں دمہ کے 12.7 فی صد کیسز کو روک سکیں گے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ گیس کے چولھے کے خطرات کے پیش نظر اگر ممکن ہو تو الیکٹرک ککر پر کھانا پکانا شروع کرنا چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.