ڈاکٹر نے تو جواب دے دیا تھا لیکن قرآن کی برکت سے زندہ ہوں۔۔ 80 سالہ بزرگ جان لیوا کینسر کے باوجود کیسے زندہ ہیں؟

32

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)قرآن مجید ایک معجزہ ہے۔ اس بات میں تو کوئی شبہ نہیں مگر کچھ ایسے واقعات پیش آتے ہیں جن سے ایمان ایک بار پھر تازہ ہوجاتا ہے۔ جیسے کہ ان بزرگ کے ساتھ پیش آیا واقعہ جو صرف چند دن کے مہمان تھے لیکن قرآن کی برکت سے زندہ ہیں۔کے فوڈ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر نے تو مجھے جواب دے دیا تھا کہ آپ کی عمر اتنی زیادہ ہوگئی ہے

اور کینسر آپ کے جسم میں پھیل چکا ہے اس کا علاج ممکن نہیں۔ یہ خبر تیزی سے پھیل گئی اس کے بعد سارے محلے والے اور رشتے دار مجھ سے ملنے آئے۔ سب کو لگتا تھا میں چند دن کا مہمان ہوں آج کل میں میرا انتقال ہوجائے گا۔یہ کہنا ہے شیخوپورہ کے 80 سالہ بزرگ کا جن کا نام شیخ اقبال ہے۔ شیخ اقبال پچھلے 3 برسوں سے گلے کے کینسر میں مبتلا ہیں۔ ڈاکٹر کے مطابق ان کا کینسر پیٹ تک چلا گیا ہے۔ شیخ اقبال کا کہنا ہے کہ انھوں نے جب دیکھا کہ ڈاکٹروں سے علاج ممکن نہیں تو انھوں نے قرآن مجید کی تلاوت سے خود اپنا علاج کرنا شروع کردیا۔شیخ اقبال کہتے ہیں کہ وہ ہر 3 دن میں پورا ایک قرآن مجید تلاوت کے ساتھ پڑھتے ہیں اور یہ اس تلاوت کی برکت ہے کہ وہ ڈاکٹر کے جواب دینے کے باوجود ابھی تک زندہ ہیں اور انھیں کوئی تکلیف بھی نہیں ہوتی۔شیخ اقبال نے بتایا کہ وہ ہمیشہ سے ہی قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے اور اللہ کے کلام میں کتنی شفا ہے اس بات پر ان کا پورا یقین ہے۔ اب لوگ ان سے کہتے ہیں کہ اگر ان کے پاس قرآن مجید پڑھا ہوا ہے تو ان کے پیاروں کو بخش کر دعا کریں تب شیخ اقبال مرنے والوں کواپنا پڑھا ہوا قرآن بخش دیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف کلام پاک کی برکت کی وجہ سے وہ زندہ ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.