ہم کب تک عمران خان کو پیٹتے رہیں گے،حکومتی اتحادی جماعت کے سینیٹر بھی اپنی حکومت پر برس پڑے

18

اسلام آباد (این این آئی)پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر سینٹ میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین ایک بار پھر آمنے سامنے گئے،قائد حزب اختلاف شہزادوسیم نے کہاہے کہ یکمشت 35روپے فی لیٹر پٹرول و ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے،200ارب کے منی بجٹ کے ذریعے عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی خبریں ہیں،

عوام کو روز روز مارنے کی بجائے ایک ہی بار مار دیا جائے جس کے جواب میں وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے کہاہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھانا بلا شبہ کڑوا گھونٹ ہے،اپوزیشن لیڈر آئین کی پامالی کا کہنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں،شعروں اور تقریروں سے ملک کی تقدیر نہیں بدلیں گی،دہشتگردی چارسالوں کا نہیں دہائیوں کا ناسور ہے،اس ناسور سے نمٹنے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا جبکہ حکومتی اتحادی جماعت جے یو آئی کے سینیٹر مرتضیٰ کامران بھی اپنی حکومت پر برس پڑے اور کہاہے کہ مہنگائی دیکھیں کہاں پہنچ گئی، کیا ہمیں حکومتی بینچز پر بیٹھنا چاہئے؟ ہم کب تک عمران خان کو پیٹتے رہیں گے اور ان کے ہونے چار اقتدار پر تنقید کرتے رہیں گے؟۔ پیر کو سینٹ کا اجلاس چیئر مین محمد صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا جس میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہزاد وسیم نے کہاکہ پشاور میں اندوہناک واقعہ قیمتی جانیں گئیں،اس واقعہ پر ہم سب کے دل غمزدہ ہیں،اس طرح کے واقعات کا تدارک اور پیش بندی ہونی چاہیے۔ قائد حزب اختلاف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر کہاکہ گزشتہ روز بھی معاشی قتل کیا گیا،یکمشت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 35روپے کا اضافہ کیا گیا،200ارب کے منی بجٹ کے ذریعے عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی خبریں ہیں،یہ بھی نہیں کہا گیا کہ کڑوا گھونٹ پینا پڑیں گے،عوام کو روزروز مارنے کی بجائے ایک ہی بار مار دیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ سات سمندر پار سے امپورٹڈ کپڑے پہنے ہوئے شہزادی کو پاکستان پہنچنے پر سونے کے تاج پہنائے گئے۔ انہوں نے کہاکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں مگر یہاں قیمتیں بڑھائی گئیں۔سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہاکہ پورا خیبر پختونخوا جل رہا ہے اس پربات کی جائے۔ شہزاد وسیم نے کہاکہ صرف خیبر پختونخوا نہیں پورا پاکستان جل رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ فواد چوہدری کے منہ پر پردہ ڈالا گیا،کیا ہمارے اوپر پر بھی پردہ ڈالنا چاہتے ہیں،ڈار صاحب کے ہاتھ اتنے بلند ہیں کہ ڈالر کو ہی اتنا بلند کیا،یہ انتہائی بد انتظامی ہے،یہ نظام اگر آئین کے تحت چلے گا تو ہی چلے گا۔ انہوں نے کہاکہ اسی خیبرپختونخوا میں گورنر آئین کے تحت الیکشن کی تاریخ دینے کا پابند ہے،گورنر نے ڈکٹیشن آنے سے پہلے تاریخ دینے سے معذرت کیا۔

وفاقی وزیر قانون وانصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ دہشتگردی چارسالوں کا نہیں دہائیوں کا ناسور ہے،اس ناسور سے نمٹنے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا،آج بھی ہم اس ناسور سے لڑنے کیلئے پرعزم ہیں،وزیراعظم لمحہ بہ لمحہ پشاور واقعے کی رپورٹ لے رہے ہیں۔ وزیر قانون نے کہاکہ تیل کی قیمتیں بڑھانا بلا شبہ کڑوا گھونٹ ہے،اپوزیشن لیڈر آئین کی پامالی کا کہنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے اپریل میں کہا کہ سپیکر اورڈپٹی سپیکر نے آئین شکنی ہے،شعروں اور تقریروں سے ملک کی تقدیر نہیں بدلیں گی۔

انہوں نے کہاکہ آپ کے وزیراعظم نے چار سالوں میں کسی سے ہاتھ ملانے تک گوارا نہیں کیا،جلسوں میں نغمے سنانے کی بجائے پارلیمنٹ میں آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہاکہ مہنگائی پر دل ہمارا بھی دکھتا ہے،پاکستان کو مشکلات سے نکالنا ہے تو مل بیٹھ بیٹھنا ہونگے۔اجلاس میں حکومتی اتحاد جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضی اپنی ہی حکومت پر برس پڑے اور کہاکہ مہنگائی دیکھیں کہاں پہنچ گئی، کیا ہمیں حکومتی بینچز پر بیٹھنا چاہئے؟ ہم کب تک عمران خان کو پیٹتے رہیں گے اور ان کے ہونے چار اقتدار پر تنقید کرتے رہیں گے؟۔انہوں نے کہاکہ ہمیں بھی حکومت میں آئے نو، دس ماہ ہو گئے، لوگ آٹے کی لائن میں مر رہیں ہیں، پیٹرول کہاں پہنچ گیاہے؟۔

موضوعات:حکومتی اتحادی جماعت

’’نواز شریف کو میں نے گرفتار کرایا تھا‘‘

میں نے پوچھا ’’عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح کب ہواتھا ؟‘‘ عون چوہدری نے جواب دیا ’’18 فروری 2018 کو بی بی کی عدت پوری ہونے کے بعد‘‘ میں نے پوچھا ’’ کیایہ نکاح بھی مفتی سعید نے پڑھایا تھا؟‘‘یہ بولے ’’جی ہاں اور اس کی تصویر ہم نے 18 فروری کو نشر کی تھی‘‘ میں ….مزید پڑھئے‎

میں نے پوچھا ’’عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح کب ہواتھا ؟‘‘ عون چوہدری نے جواب دیا ’’18 فروری 2018 کو بی بی کی عدت پوری ہونے کے بعد‘‘ میں نے پوچھا ’’ کیایہ نکاح بھی مفتی سعید نے پڑھایا تھا؟‘‘یہ بولے ’’جی ہاں اور اس کی تصویر ہم نے 18 فروری کو نشر کی تھی‘‘ میں ….مزید پڑھئے‎

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.