کوشش ہوگی عمران خان کو اسی جیل کے سیل میں رکھوں جس میں انہوں نے مجھے 6بار رکھا ،رانا ثنا اللہ

22

اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء نے کہا ہے کہ نواز شریف اپنی واپسی کی تاریخ خود ہی دیں گے، ان کی تیاری مکمل ہے، نواز شریف کے بغیر الیکشن میں جانے سے نقصان ہو گا، ان کا پاکستان میں موجود ہونے سے مسلم لیگ (ن) کو فائدہ زیادہ ہو نا ہے،میری کوشش ہو گی کہ عمران خان کو اسی جیل کے سیل میں رکھوں جس سیل میں انہوں نے مجھے 6بار رکھا۔

عمران خان کو جیل میں غیر ممنوعہ چیزوں کی علاوہ تمام چیزیں فراہم کی جائیں گی،عمران خان صرف ایک ماہ جیل میں رہیں پھر دیکھیں گے یہ کہتے ہیں جیل بھرو یا جیل خالی کرو، میری تو خواہش ہے کہ مجھے اور عمران خان کو جیل کے ایک سیل میں بند کر دیا جائے شیخ رشید حوصلہ کریں رونا دھونا بند کریں، برداشت کریں، ہمیں ان پر کوئی جعلی مقدمہ نہیں قائم کیا ہے، انہوں نے جو کہا ہے وہی مقدمہ ان پر قائم کیا گیا ہے۔رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور سیاسی رہنمائوں پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے قتل کی سازش کا الزام لگانا ان کا سیاسی سٹنٹ ہے، جسے امریکی خط کو سامنے لائے تھے اور جھوٹ بولتے تھے، آخر میں اس سے کچھ نہیں نکلااور آج تک انھوں نے جتنے جھوٹے پروپیگنڈا کیا اسکے شواہد بھی نہیں دیے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان بنیادی طور پر جھوٹا انسان ہے، جھوٹ کی بنیاد پر سیاست کر رہے ہیں اور دیکھتے ہیں جس موضوع پر لوگ اس کی بات سنے لگتے ہیں، اس پر شروع ہو جاتا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر عمران خان کو اگر پتہ چل گیا ہے کہ ان کا قتل کا منصوبہ اے ، بی اور سی بن گیا ہے ، کون سے بندے ہیں اور تعلق وزیرستان سے ہے تو پھر وہ چیف جسٹس آف پاکستان کی عدالت یا عوام کے سامنے شواہد رکھے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان نے اپنے اوپر حملے سے پہلے ہی لوگوں قتل کیلئے نامزد کر کے دوسرے لوگوں کو موقع فراہم کیا، خدانخواستہ انہیں کچھ ہو جاتا ہے تو الزام ہم لوگوں پر ہی آنا تھا جن کو وہ زندگی میں نامزد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دعا ہے کہ عمران خان کو لمبی زندگی نصیب ہو لیکن پاکستان کی دشمن ایجنسیاں افراتفری چاہتی ہیں، انہیں عمران خان کی باتوں سے حوصلہ ملتا ہے کیونکہ انہوں نے اگر قتل کر دیا تو ملک کی دو بڑی پارٹیوں کا تصادم ہو گا۔

افراتفری مچے گی اور ملک تباہ ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر قوم نے عمران خان ووٹ سے باہر نہیں کیا تو یہ شخص ملک کو کسی حادثے سے دوچار کر دے گا۔ رانا ثناء اللہ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے ڈرائیور سے شراب برآمدگی کے سوال پر کہا کہ ہمیں اطلاع ملی تھی کہ پرویز الٰہی کے لوگ پنجاب ہائوس آئے ہیں اور وہاں پرویز الٰہی کے کمرے میں وقت گزار کر کچھ دستاویزات لے گئے ہیں لیکن جب ان کو پکڑا گیا تو ان سے دستاویزات کی جگہ شراب برآمد ہوئی۔

ان سے پوچھا گیا کہ یہ شراب کہاں اور کس کیلئے تھی تو وہ جواب قلمبند کرلیا گیا ہے۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ شیخ رشید حوصلہ کریں رونا دھونا بند کریں، برداشت کریں، ہم نے ان پر کوئی جعلی مقدمہ نہیں قائم کیا، انہوں نے جو کہا ہے وہی مقدمہ ان پر قائم کیا گیا ہے، ہمیں نے گرفتار کر کے چوبیس گھنٹوں میں عدالت میں پیش کیا اور اپنا کام قانون کے مطابق ادا کیا، اب عدالت کی مرضی ہے وہ ریمانڈ دے یا ضمانت دے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کسی پر 20کلو ہیروئن کا مقدمہ ڈالنا مشکل کام نہیں ہے لیکن ہم یہ نہیں کر رہے ہیں، فواد چوہدری، اعظم سواتی اور شہباز گل کی گرفتاریاں ان کے بیانات پر ہوئیں جو ریکارڈ کاحصہ ہیں، ہماری حکومت قانون کی عملداری برقرار رکھ کر ہی مقدمات بنا رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان جیل بھرو تحریک شروع کریں،حکومت نے جن کو جیل میں رکھنا ہے ان کیلئے انتظامات اور جگہ موجود ہے۔

ہم انکے لیے اچھے سے بندوبست کررہے ہیں،جیلوں میں بندے ہم نے اپنی مرضی سے رکھنے ہیں تا کہ ان کو پتہ چلے کہ جیل کیا ہے اور جیل مینول کے مطابق ان کے ساتھ سلوک کیا جائے گا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ میری کوشش ہو گی کہ عمران خان کو اسی جیل کے سیل میں رکھوں جس سیل میں انہوں نے مجھے 6بار رکھا، عمران خان کو جیل میں غیر ممنوعہ چیزوں کی علاوہ تمام چیزیں فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان صرف ایک ماہ جیل میں رہیں پھر دیکھتے ہیں کیا جیل بھرو یا جیل خالی کرو کہتے ہیں، میری تو خواہش ہے کہ مجھے اور عمران خان کو جیل کے ایک سیل میں بند کر دیا جائے اور جب تک دونوں خود نہ چاہیں تو نہ نکالا جائے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ نواز شریف کی واپسی کی تاریخ وہ خود ہی دیں گے، ان کی تیاری مکمل ہے، پارٹی میں بھی اتفاق رائے موجود ہے کہ نواز شریف کے بغیر الیکشن میں جانے سے نقصان ہو گا، ان کا پاکستان میں موجود ہونے سے مسلم لیگ (ن) کو فائدہ زیادہ ہو نا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.